رکھا ہے جیسے تیسے ہی خود کو سنبھال کر
رکھا ہے جیسے تیسے ہی خود کو سنبھال کر
اک شخص لے گیا تھا کلیجہ نکال کر
پہروں بچھڑ گیا تو کبھی آ گلے ملا
وہ روح پھونکتا ہے مرا دم نکال کر
اپنی تباہیوں پہ جسے خوب ناز تھا
دیکھو تو رو رہا ہے وہی دل سنبھال کر
اک کچی عمر سے جسے میں سوچتی رہی
وہ خود بدل گیا مجھے سانچے میں ڈھال کر
اب اہل ظرف لوگ نہیں ہیں زمانے میں
تم دل لگانا اپنا ذرا دیکھ بھال کر
ہم جن کو پوجتے تھے کبھی عزم کی طرح
بیٹھے ہیں وہ ہی لوگ تو خنجر نکال کر
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.