Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

تسکیں کو ہم نہ روئیں جو ذوق نظر ملے

ضامن جعفری

تسکیں کو ہم نہ روئیں جو ذوق نظر ملے

ضامن جعفری

MORE BYضامن جعفری

    تسکیں کو ہم نہ روئیں جو ذوق نظر ملے

    اتنا تو ہو کہ ان کے محلے میں گھر ملے

    ترمیم کی دعا میں یہ تنگ آ کے شیخ نے

    جیسی بھی ہو جہاں بھی ہو فوراً مگر ملے

    وہ بھی تھا فرق عشق و محبت سے بے خبر

    اپنی بھی یہ خطا تھی کہ دل کھول کر ملے

    ہر وقت جان سولی پہ ہر سانس آخری

    بغداد بہتر ایسی محبت اگر ملے

    ملتا نہیں وہ ہم سے کہ خود دل میں چور ہے

    اپنے پہ اعتماد ہو تو ٹوٹ کر ملے

    سب اہل قافلہ تھے مگر قافلہ نہ تھا

    تنہائی تھی اگرچہ بہت ہم سفر ملے

    تاخیر سے پہنچنے پہ اب دل ملول ہیں

    وہ سب دیار حسن میں جو در بدر ملے

    تجھ سے بگاڑ کر کے کروں کیا میں اے ندیم

    میری بھڑاس نکلے اگر چارہ گر ملے

    تنہائی سے سنا ہے کہ گھبرا رہے ہیں وہ

    شاید ہمیں بھی کوئی اب اچھی خبر ملے

    ضامنؔ یہ کر رہا ہے ادھر کی ادھر ضرور

    اس بار چپ ہی رہیو اگر نامہ بر ملے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے