تسکیں کو ہم نہ روئیں جو ذوق نظر ملے
تسکیں کو ہم نہ روئیں جو ذوق نظر ملے
اتنا تو ہو کہ ان کے محلے میں گھر ملے
ترمیم کی دعا میں یہ تنگ آ کے شیخ نے
جیسی بھی ہو جہاں بھی ہو فوراً مگر ملے
وہ بھی تھا فرق عشق و محبت سے بے خبر
اپنی بھی یہ خطا تھی کہ دل کھول کر ملے
ہر وقت جان سولی پہ ہر سانس آخری
بغداد بہتر ایسی محبت اگر ملے
ملتا نہیں وہ ہم سے کہ خود دل میں چور ہے
اپنے پہ اعتماد ہو تو ٹوٹ کر ملے
سب اہل قافلہ تھے مگر قافلہ نہ تھا
تنہائی تھی اگرچہ بہت ہم سفر ملے
تاخیر سے پہنچنے پہ اب دل ملول ہیں
وہ سب دیار حسن میں جو در بدر ملے
تجھ سے بگاڑ کر کے کروں کیا میں اے ندیم
میری بھڑاس نکلے اگر چارہ گر ملے
تنہائی سے سنا ہے کہ گھبرا رہے ہیں وہ
شاید ہمیں بھی کوئی اب اچھی خبر ملے
ضامنؔ یہ کر رہا ہے ادھر کی ادھر ضرور
اس بار چپ ہی رہیو اگر نامہ بر ملے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.