مرے ہی دل میں رہے اور روبرو نہ ہوئے
مرے ہی دل میں رہے اور روبرو نہ ہوئے
برنگ اشک ملے حسن چار سو نہ ہوئے
مٹا خیال زمان و مکاں کہ جیسے ہم
ترا جمال ہوئے خاک کو بہ کو نہ ہوئے
ترے فراق میں صدیاں گزار دیں ہیں مگر
تمہارے جیسے ملے لاکھ ہو بہ ہو نہ ہوئے
کہ رائیگاں ہوئے ابلیس کا نصیب ہوئے
وہ سجدے جو کسی چوکھٹ کی آبرو نہ ہوئے
چلا ہوا ہے ازل سے ہی کاروان خیال
طیور قدس کبھی صید جستجو نہ ہوئے
میں چاک ہستی ہوں مجنوں کا پیرہن تو نہیں
یہ چاک وہ ہیں ازل سے ہی جو رفو نہ ہوئے
ڈبو گئی مجھے مستی میں اک نگاہ کرم
وہ ولولے ہیں کہ جو حاصل سبو نہ ہوئے
ترے جمال کی رنگت کہاں کہاں نہ ملی
یہ اور بات کہ ہم حرف آرزو نہ ہوئے
تمہارا ذکر ہر اک لب پہ آ چلا تھا مگر
ہم ایسے کھوئے کہ بس وجہ گفتگو نہ ہوئے
تمہاری یاد میں کعبہ بنا ہوا ہے دل
نگاہ شوق کے سجدے بھی بے وضو نہ ہوئے
نشان منزل دل پوچھتے ہو کیا واصفؔ
چمن کے پھول کبھی محو رنگ و بو نہ ہوئے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.