Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

مرے ہی دل میں رہے اور روبرو نہ ہوئے

واصف علی واصف

مرے ہی دل میں رہے اور روبرو نہ ہوئے

واصف علی واصف

MORE BYواصف علی واصف

    مرے ہی دل میں رہے اور روبرو نہ ہوئے

    برنگ اشک ملے حسن چار سو نہ ہوئے

    مٹا خیال زمان و مکاں کہ جیسے ہم

    ترا جمال ہوئے خاک کو بہ کو نہ ہوئے

    ترے فراق میں صدیاں گزار دیں ہیں مگر

    تمہارے جیسے ملے لاکھ ہو بہ ہو نہ ہوئے

    کہ رائیگاں ہوئے ابلیس کا نصیب ہوئے

    وہ سجدے جو کسی چوکھٹ کی آبرو نہ ہوئے

    چلا ہوا ہے ازل سے ہی کاروان خیال

    طیور قدس کبھی صید جستجو نہ ہوئے

    میں چاک ہستی ہوں مجنوں کا پیرہن تو نہیں

    یہ چاک وہ ہیں ازل سے ہی جو رفو نہ ہوئے

    ڈبو گئی مجھے مستی میں اک نگاہ کرم

    وہ ولولے ہیں کہ جو حاصل سبو نہ ہوئے

    ترے جمال کی رنگت کہاں کہاں نہ ملی

    یہ اور بات کہ ہم حرف آرزو نہ ہوئے

    تمہارا ذکر ہر اک لب پہ آ چلا تھا مگر

    ہم ایسے کھوئے کہ بس وجہ گفتگو نہ ہوئے

    تمہاری یاد میں کعبہ بنا ہوا ہے دل

    نگاہ شوق کے سجدے بھی بے وضو نہ ہوئے

    نشان منزل دل پوچھتے ہو کیا واصفؔ

    چمن کے پھول کبھی محو رنگ و بو نہ ہوئے

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے