دل سے اس بت کے قمر قدر وفا جاتی رہی
دل سے اس بت کے قمر قدر وفا جاتی رہی
جس ہوا میں آپ ہیں اب وہ ہوا جاتی رہی
قدر الفت جب نہیں یارب تو الفت بھی نہ ہو
وہ مرض کیوں رہ گیا جس کی دوا جاتی رہی
جنس دل مجھ خستہ جاں کی یا شکایت غیر کی
آپ نے کس چیز کو ہنس کر کہا جاتی رہی
یہ ہوا کیسی چلی یارب کہ باغ دہر میں
پھول باقی رہ گئی بوئے وفا جاتی رہی
ہاتھ کیوں ملتے ہو قتل عاشق جانباز پر
پھر کہو گے شوخیٔ رنگ حنا جاتی رہی
میرے بہلانے کو ان کی منتوں کو ہجر میں
ہچکیاں آتی رہیں آہ رسا جاتی رہی
وصل جاناں کی خوشی کا اے قمرؔ کیا اعتبار
بارہا قسمت میں آئی بارہا جاتی رہی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.