Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

دل سے اس بت کے قمر قدر وفا جاتی رہی

قمر بدایونی

دل سے اس بت کے قمر قدر وفا جاتی رہی

قمر بدایونی

MORE BYقمر بدایونی

    دل سے اس بت کے قمر قدر وفا جاتی رہی

    جس ہوا میں آپ ہیں اب وہ ہوا جاتی رہی

    قدر الفت جب نہیں یارب تو الفت بھی نہ ہو

    وہ مرض کیوں رہ گیا جس کی دوا جاتی رہی

    جنس دل مجھ خستہ جاں کی یا شکایت غیر کی

    آپ نے کس چیز کو ہنس کر کہا جاتی رہی

    یہ ہوا کیسی چلی یارب کہ باغ دہر میں

    پھول باقی رہ گئی بوئے وفا جاتی رہی

    ہاتھ کیوں ملتے ہو قتل عاشق جانباز پر

    پھر کہو گے شوخیٔ رنگ حنا جاتی رہی

    میرے بہلانے کو ان کی منتوں کو ہجر میں

    ہچکیاں آتی رہیں آہ رسا جاتی رہی

    وصل جاناں کی خوشی کا اے قمرؔ کیا اعتبار

    بارہا قسمت میں آئی بارہا جاتی رہی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے