دامن میں میرے کچھ بھی نہیں ہے بچا ہوا
دامن میں میرے کچھ بھی نہیں ہے بچا ہوا
آیا ہوں تیرے پاس میں یکسر لٹا ہوا
پھر اس کے بعد اپنی سحر ہی نہیں ہوئی
مجھ سے جدا اک آئنہ وقت عشا ہوا
محفل میں کس کا حسن حقیقی عیاں ہے آج
کس کے لیے ہے فرش زمرد بچھا ہوا
روز ازل سے آج تلک دل کے وسط میں
پیہم ہے تیرے ہجر کا خنجر گڑا ہوا
یہ جس کو آج وصل سے تعبیر کرتے ہیں
میں نے یہ ذائقہ ہے ازل سے چکھا ہوا
لہروں کی بے نیازی کا منظر عجیب تھا
دیکھا ہے اس نگاہ کا دریا چڑھا ہوا
میرا تو جسم چاٹ گئی ہے وبائے ہجر
لیکن تمہارے ساتھ یہ کیا سانحہ ہوا
اب مجھ کو تو نواز یا رد کر سخی مرے
تیرے ہی ہاتھ میں ہے مقدر لکھا ہوا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.