Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

دامن میں میرے کچھ بھی نہیں ہے بچا ہوا

محمد مستحسن جامی

دامن میں میرے کچھ بھی نہیں ہے بچا ہوا

محمد مستحسن جامی

MORE BYمحمد مستحسن جامی

    دامن میں میرے کچھ بھی نہیں ہے بچا ہوا

    آیا ہوں تیرے پاس میں یکسر لٹا ہوا

    پھر اس کے بعد اپنی سحر ہی نہیں ہوئی

    مجھ سے جدا اک آئنہ وقت عشا ہوا

    محفل میں کس کا حسن حقیقی عیاں ہے آج

    کس کے لیے ہے فرش زمرد بچھا ہوا

    روز ازل سے آج تلک دل کے وسط میں

    پیہم ہے تیرے ہجر کا خنجر گڑا ہوا

    یہ جس کو آج وصل سے تعبیر کرتے ہیں

    میں نے یہ ذائقہ ہے ازل سے چکھا ہوا

    لہروں کی بے نیازی کا منظر عجیب تھا

    دیکھا ہے اس نگاہ کا دریا چڑھا ہوا

    میرا تو جسم چاٹ گئی ہے وبائے ہجر

    لیکن تمہارے ساتھ یہ کیا سانحہ ہوا

    اب مجھ کو تو نواز یا رد کر سخی مرے

    تیرے ہی ہاتھ میں ہے مقدر لکھا ہوا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے