کہاں ہو ہاتھ بڑھاؤ بہت اندھیرا ہے
کہاں ہو ہاتھ بڑھاؤ بہت اندھیرا ہے
مرے قریب تو آؤ بہت اندھیرا ہے
اٹھاؤ جام اٹھاؤ بہت اندھیرا ہے
پلاؤ خوب پلاؤ بہت اندھیرا ہے
میں بے خودی میں بہک کر بچھڑ نہ جاؤں کہیں
مجھے نہ ہوش میں لاؤ بہت اندھیرا ہے
وفا کی راہ بڑی سخت ہے پلٹ آؤ
ہمارے ساتھ نہ آؤ بہت اندھیرا ہے
زمانے والے دغا دے کے شاد ہوتے ہیں
فریب جان کے کھاؤ بہت اندھیرا ہے
غرض کی کالی گھٹاؤں میں چھپ گیا سورج
چراغ دن میں جلاؤ بہت اندھیرا ہے
چھپے ہیں سیکڑوں سورج ہر ایک قطرے میں
منیرؔ جام اٹھاؤ بہت اندھیرا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.