تیری یادوں کو دل و جاں میں بسایا ہم نے
تیری یادوں کو دل و جاں میں بسایا ہم نے
اپنے ویران شبستاں کو سجایا ہم نے
آپ کے واسطے اشعار بھی بے وزن کئے
تو جہاں لگتا وہاں آپ لگایا ہم نے
ابتدا عشق کی اک حرف تمنا سے ہوئی
پھر اسی حرف کو دنیا میں سنایا ہم نے
آپ بچھڑے تو ہر اک شے سے گریزاں ہو کر
اپنے ہونے کا بھی ماتم سا منایا ہم نے
لوگ پڑھتے رہے چہرے پہ محبت کا نصاب
حال دل سب سے مگر خوب چھپایا ہم نے
لوگ حیران تھے کیوں شہر میں رسوا ہیں ہم
نام تیرا تھا مگر خود کو بتایا ہم نے
تری نسبت کے لیے حرف بھی سجدے میں رہے
یوں غزل کو ترے کوچہ سے ملایا ہم نے
تری آواز کی خوشبو سے مہک اٹھے حرف
لفظ کاغذ پہ نہیں دل پہ سجایا ہم نے
کتنے آنسو تھے جو پلکوں سے سمٹتے ہی نہ تھے
پھر بھی ہنس ہنس کے زمانے کو دکھایا ہم نے
تیری چاہت نے عجب طرز سخن بخشا تھا
زخم لکھتے رہے اور جشن منایا ہم نے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.