مجھ کو نہیں امید کوئی ممکنات سے
مجھ کو نہیں امید کوئی ممکنات سے
اکتا گئی ہو زندگی جب حادثات سے
دیکھا جو ریزہ ریزہ مرا سوختہ بدن
ڈرنے لگا ہے آئینہ خود جزویات سے
یہ ابتدائے عشق نہ آساں خیال کر
انسان سیکھتا ہے یہاں تجربات سے
تو لاکھ ڈھال پیار کے سانچے میں اپنا آپ
لیکن میں آشنا ہوں تری نفسیات سے
اک پھول سے زیادہ وہ نازک مزاج ہے
کیسے کریں مخاطب اسے سخت بات سے
پہلو میں صبر کے بھی ذرا بیٹھیے حضور
اتنا لپٹ کے روتے نہیں خواہشات سے
یہ زخم زخم دل ہے نہیں جسم کی خراش
کچھ فائدہ نہ ہوگا تمہیں ادویات سے
رسوا کریں جو تجھ کو زمانے کے سامنے
زرواؔ کا اجتناب ہے ان فاسدات سے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.