وہ کہتے ہیں ابھی سے رشک غیروں کی محبت پر
وہ کہتے ہیں ابھی سے رشک غیروں کی محبت پر
الٰہی خیر یہ دعویٰ تمہیں دو دن کی چاہت پر
برا کہہ لو سزا دے لو مجھے تم جرم الفت پر
خفا ہونے سے کیا مطلب ہے اظہار محبت پر
وہ کہتے ہیں کہے جاؤ مجھے تم گھورتے کیوں ہو
تمہارا قصۂ غم کیا لکھا ہے میری صورت پر
تم اپنے طالب دیدار کو بے صبر کہتے ہو
نہ دیکھو آئنہ خود بھی جو قادر ہو طبیعت پر
وہ بوسہ دے کے کہتے ہیں بڑے دل پھیرنے والے
انہیں دل پھیر دے گا کوئی اک بوسہ کی حجت پر
وہ اکثر پوچھتے ہیں مجھ سے کس پر جان جاتی ہے
مگر ہمت نہیں پڑتی کہ کہہ دوں خود بدولت پر
دیئے دیتا ہے دل کس سنگ دل کو سوچ تو دل میں
قمرؔ نادان ہے پتھر پڑیں تیری بری مت پر
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.