ہر ملاقات ہی تم سے آدھی ہوئی
ہر ملاقات ہی تم سے آدھی ہوئی
تو بشر نہ ہوئی دیو زادی ہوئی
با جماعت نماز محبت نہیں
یہ جہاں بھی ہوئی انفرادی ہوئی
کیوں وہ ہر وقت ہو دسترس میں مری
یہ محبت نہیں یہ تو شادی ہوئی
تیری آنکھیں بنیں اور صبح ازل
حسن کے خاتمے کی منادی ہوئی
پھر کسی کی بھی صورت نہ دیکھی کبھی
ایسی چشم طلب تیری عادی ہوئی
یہ کرم کا یقیں میرا اپنی جگہ
محترم ہے تمہاری سزا دی ہوئی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.