Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

ناز بیجا ہے گیا عشق کا آزار کہاں

فصاحت لکھنوی

ناز بیجا ہے گیا عشق کا آزار کہاں

فصاحت لکھنوی

MORE BYفصاحت لکھنوی

    ناز بیجا ہے گیا عشق کا آزار کہاں

    اے مسیحا ہوئے اچھے ترے بیمار کہاں

    قدر داں حسن خداداد کا اے یار کہاں

    ہیں حسیں تم سے بہت ہم سے خریدار کہاں

    کعبہ و دیر میں یا سوئے کلیسا اے دوست

    شوق میں جائے ترا طالب دیدار کہاں

    آ کے پوچھے گا فرشتوں سے وہ بت روز جزا

    عرصۂ حشر میں ہیں میرے گنہگار کہاں

    شعرا کیسے ہیں نافہم کہ دیتے ہیں مثال

    کبک کی چال کہاں آپ کی رفتار کہاں

    کوچۂ یار بھی ہے مصر کا بازار بھی ہے

    حسن کی جنس کو لیں جا کے خریدار کہاں

    رحمت حق سے یہ پوچھیں گے ملک حشر کے دن

    خلد وہ ہے یہ سقر جائیں گنہگار کہاں

    تربت غیر پہ زینت ہے نہ رونق یارو

    دیکھو تو ہیں گل نقش قدم یار کہاں

    کچھ پتا دو کہ میں دل تھانبے ہوئے آؤں وہیں

    اٹھ کے پہلو سے مرے جاتے ہو اے یار کہاں

    لب تسنیم پہ پہنچیں کہ کنار کوثر

    ساقیا حشر کو آئیں ترے مے خوار کہاں

    جاؤ بھی تیر یہ کس طرح لگایا تم نے

    رہ گیا دل میں کلیجہ سے ہوا پار کہاں

    آئے ان انکھڑیوں میں وصل کی شب گہری نیند

    طالع ایسا ہے فصاحتؔ مرا بیدار کہاں

    موضوعات

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے