ناز بیجا ہے گیا عشق کا آزار کہاں
ناز بیجا ہے گیا عشق کا آزار کہاں
اے مسیحا ہوئے اچھے ترے بیمار کہاں
قدر داں حسن خداداد کا اے یار کہاں
ہیں حسیں تم سے بہت ہم سے خریدار کہاں
کعبہ و دیر میں یا سوئے کلیسا اے دوست
شوق میں جائے ترا طالب دیدار کہاں
آ کے پوچھے گا فرشتوں سے وہ بت روز جزا
عرصۂ حشر میں ہیں میرے گنہگار کہاں
شعرا کیسے ہیں نافہم کہ دیتے ہیں مثال
کبک کی چال کہاں آپ کی رفتار کہاں
کوچۂ یار بھی ہے مصر کا بازار بھی ہے
حسن کی جنس کو لیں جا کے خریدار کہاں
رحمت حق سے یہ پوچھیں گے ملک حشر کے دن
خلد وہ ہے یہ سقر جائیں گنہگار کہاں
تربت غیر پہ زینت ہے نہ رونق یارو
دیکھو تو ہیں گل نقش قدم یار کہاں
کچھ پتا دو کہ میں دل تھانبے ہوئے آؤں وہیں
اٹھ کے پہلو سے مرے جاتے ہو اے یار کہاں
لب تسنیم پہ پہنچیں کہ کنار کوثر
ساقیا حشر کو آئیں ترے مے خوار کہاں
جاؤ بھی تیر یہ کس طرح لگایا تم نے
رہ گیا دل میں کلیجہ سے ہوا پار کہاں
آئے ان انکھڑیوں میں وصل کی شب گہری نیند
طالع ایسا ہے فصاحتؔ مرا بیدار کہاں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.