کر کے ارادہ آئی تھی جس سے کلام کا
کر کے ارادہ آئی تھی جس سے کلام کا
اس سے جواب بھی نہیں پایا سلام کا
اچھی کٹے گی عمر نئے شہر میں مری
اک شخص مل گیا ہے یہاں تیرے نام کا
کل شب کسی سے کی تھی بڑے دن میں گفتگو
موضوع تو نہیں ہے ہمارے کلام کا
تم نے جہاں بٹھایا ہے اس سے پتہ چلا
تم کو پتہ نہیں ہے ہمارے مقام کا
میں صبح کو اداس ہوئی جس کو سوچ کر
اے دوست حادثہ تھا کسی ایک شام کا
اچھا ہوا کہ چھوڑ دیا کاروبار عشق
ویسے یہ کام تھا بھی نہیں اپنے کام کا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.