کہتا ہے وہ بت مجھ سے کچھ خوف خدا کرنا
کہتا ہے وہ بت مجھ سے کچھ خوف خدا کرنا
میں تم سے ملوں اس کی ہرگز نہ دعا کرنا
میں نے ہی وفا کی ہے میں نے ہی خطا کی ہے
مجھ پر ہی ستم ڈھانا مجھ پر ہی جفا کرنا
ہو کر ہی رہا ظاہر تو دوست ہے دشمن کا
آخر نہ چھپا ظالم چھپ چھپ کے ملا کرنا
کہتے ہیں کہ دل بھی ہے جو دل سے دعا مانگو
کیوں ہاتھ اٹھائے ہیں سیکھو تو دعا کرنا
کہتے ہیں قمرؔ دیکھو اغیار خفا ہوں گے
تم نام کبھی اپنا خط میں نہ لکھا کرنا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.