جاتے جاتے ہی کوئی بات تو کرتے جاؤ
جاتے جاتے ہی کوئی بات تو کرتے جاؤ
درد مندوں سے ملاقات تو کرتے جاؤ
دشت تنہائی میں ہم تم سے بچھڑ کر جی لیں
ایسے کچھ تلخ سے حالات تو کرتے جاؤ
کیا یہ طوفان یوں ہی ساتھ میں لے جاؤ گے
ہم سے اظہار خیالات تو کرتے جاؤ
تم نے دنیا کو تبسم کے خزانے بانٹے
کچھ ہمیں بھی یہی خیرات تو کرتے جاؤ
جن سوالوں کے سبب دل کا گلستاں اجڑا
آج ہم سے وہ سوالات تو کرتے جاؤ
ساری دنیا نے کیے ظلم ہمارے اوپر
تم بھی کچھ ہم پہ عنایات تو کرتے جاؤ
زخموں کے داغ نہیں یہ ہیں مزارات وفا
ان مزاروں کی زیارات تو کرتے جاؤ
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.