چشم ساقی نے کرم کچھ ایسے فرمائے کہ بس
چشم ساقی نے کرم کچھ ایسے فرمائے کہ بس
ہاتھ کانپا جام چھوٹا ہم وہ گھبرائے کہ بس
آج اس نے بن کے قاتل وہ ستم ڈھائے کہ بس
چیخ اٹھی شمشیر خوں آشام بھی ہائے کہ بس
یوں تو دنیا دار فانی ہے بہت آئے گئے
باغ عالم میں مگر کچھ گل وہ کمہلائے کہ بس
حال و ماضی کی ہلاکت خیز تلخی کم نہ تھی
ایسے چہرے آج مستقبل نے دکھلائے کہ بس
دھڑکنیں ایسی بڑھیں ہم رہ گئے دل تھام کے
آج تنہائی میں کچھ ایسے وہ یاد آئے کہ بس
ہو گیا لبریز جب پیمانہ غم کا اے منیرؔ
اشک بھر کے جام حسرت ایسے چھلکائے کہ بس
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.