اگر ہو کچھ ناگوار خاطر بگڑ کے جینا عذاب کر دے
اگر ہو کچھ ناگوار خاطر بگڑ کے جینا عذاب کر دے
اک ایسے ظالم سے واسطہ ہے جو راہ میں بے نقاب کر دے
نصیب میں جس کے گردشیں ہوں جسے زمانہ خراب کر دے
وہ کیا کرے جو نہ زندگی کو سپرد جام شراب کر دے
ادا و شوخی سے مسکرانا خود اپنے ہاتھوں سے مے پلانا
یہ آپ کا التفات پیہم اگر مجھے بے حجاب کر دے
تمہیں نہیں ایک مہ جبیں ہو ہر ایک صورت ہے چاند جیسی
لگاؤ دل کا نظر کا جادو جسے کہو آفتاب کر دے
تباہ کر دینا مشغلہ ہے یہ تیری الفت کی انتہا ہے
کرم کی جس پر نگاہ ڈالے اسی کا خانہ خراب کر دے
مسیح سے تا کرشن و احمد سبھی محبت کے دیوتا ہیں
منیرؔ میدان عاشقی میں خدا جسے کامیاب کر دے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.