سوز الفت درد دل زخم جگر کی بات ہے
سوز الفت درد دل زخم جگر کی بات ہے
چارہ سازی کی نہیں اب تو اثر کی بات ہے
جائے حیرت ہے کہ عہد موسم گل میں بھی آج
جس طرف بھی دیکھیے برق و شرر کی بات ہے
شام کا وعدہ تھا لیکن اب سحر ہونے کو ہے
کیسے وہ بھولے ابھی تو دوپہر کی بات ہے
تو کتاب زندگانی کو ذرا پڑھ کر تو دیکھ
ہر ورق پر اپنے ہی خون جگر کی بات ہے
وہ مجھے ذرہ سمجھتے ہیں میں ان کو آفتاب
اپنی اپنی وسعت فکر و نظر کی بات ہے
اقتضائے وقت نے بدلا ہے ایسا رنگ نورؔ
اہل ظلمت کی زباں پر بھی سحر کی بات ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.