Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

سوز الفت درد دل زخم جگر کی بات ہے

نور قریشی

سوز الفت درد دل زخم جگر کی بات ہے

نور قریشی

MORE BYنور قریشی

    سوز الفت درد دل زخم جگر کی بات ہے

    چارہ سازی کی نہیں اب تو اثر کی بات ہے

    جائے حیرت ہے کہ عہد موسم گل میں بھی آج

    جس طرف بھی دیکھیے برق و شرر کی بات ہے

    شام کا وعدہ تھا لیکن اب سحر ہونے کو ہے

    کیسے وہ بھولے ابھی تو دوپہر کی بات ہے

    تو کتاب زندگانی کو ذرا پڑھ کر تو دیکھ

    ہر ورق پر اپنے ہی خون جگر کی بات ہے

    وہ مجھے ذرہ سمجھتے ہیں میں ان کو آفتاب

    اپنی اپنی وسعت فکر و نظر کی بات ہے

    اقتضائے وقت نے بدلا ہے ایسا رنگ نورؔ

    اہل ظلمت کی زباں پر بھی سحر کی بات ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے