رنگوں سے مزین ہے قلم دان ہمارا
رنگوں سے مزین ہے قلم دان ہمارا
ہے رنگ سخن اور مری جان ہمارا
جب تک تری تصویر کشی کی نہیں ہم نے
بے معنی و بے رنگ تھا دیوان ہمارا
اترے تھے کسی دشت میں ہم روز ازل کو
صحرا کی طرف جتنا ہے میلان ہمارا
برسوں سے ہیں محروم تری نظر کرم سے
سو حد سے زیادہ ہوا نقصان ہمارا
آباد ہوئی دھرتی دل وحشی کی جامیؔ
جس کو بھی ملا حلقۂ عرفان ہمارا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.