Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

زیست کا لمبا سفر ہے اور میں

ارشاد دہلوی

زیست کا لمبا سفر ہے اور میں

ارشاد دہلوی

MORE BYارشاد دہلوی

    زیست کا لمبا سفر ہے اور میں

    راستہ اک پر خطر ہے اور میں

    راہزن بیٹھے نہ ہوں چھپ کر کہیں

    دل میں لٹ جانے کا ڈر ہے اور میں

    ساتھ میں کوئی نہیں ہے ہم سفر

    یہ اکیلی رہگزر ہے اور میں

    کوئی سایا ہی نہیں بیٹھوں کہاں

    دھوپ ہے گرد سفر ہے اور میں

    آبلہ پا ہوں چلا جاتا نہیں

    سخت مشکل سی ڈگر ہے اور میں

    صحرا کی گرمی سے تپتا ہے بدن

    تشنگی ہے دوپہر ہے اور میں

    دور تک ہیں رات کی خاموشیاں

    چاندنی محو سفر ہے اور میں

    وحشتوں کے سائے ہیں چاروں طرف

    رات کا پچھلا پہر ہے اور میں

    صبح کی آمد ہے یہ ارشادؔ کیا

    اجلی اجلی سی سحر ہے اور میں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے