زیست کا لمبا سفر ہے اور میں
زیست کا لمبا سفر ہے اور میں
راستہ اک پر خطر ہے اور میں
راہزن بیٹھے نہ ہوں چھپ کر کہیں
دل میں لٹ جانے کا ڈر ہے اور میں
ساتھ میں کوئی نہیں ہے ہم سفر
یہ اکیلی رہگزر ہے اور میں
کوئی سایا ہی نہیں بیٹھوں کہاں
دھوپ ہے گرد سفر ہے اور میں
آبلہ پا ہوں چلا جاتا نہیں
سخت مشکل سی ڈگر ہے اور میں
صحرا کی گرمی سے تپتا ہے بدن
تشنگی ہے دوپہر ہے اور میں
دور تک ہیں رات کی خاموشیاں
چاندنی محو سفر ہے اور میں
وحشتوں کے سائے ہیں چاروں طرف
رات کا پچھلا پہر ہے اور میں
صبح کی آمد ہے یہ ارشادؔ کیا
اجلی اجلی سی سحر ہے اور میں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.