چل سکے دل کے نہ ہمراہ نظر کے ساتھی
چل سکے دل کے نہ ہمراہ نظر کے ساتھی
رہگزر میں ہی رہے راہگزر کے ساتھی
ہر کرن دل میں بسا لیتے ہیں ہم تو لیکن
شام تک ساتھ بھی ہوں گے یہ سحر کے ساتھی
ہر کنارے کی طرف صورت دریا دیکھو
راستہ روک بھی لیتے ہیں سفر کے ساتھی
قافلے شور مچاتے ہوئے گزرے لیکن
اپنی دیوار سے آئے نہ اتر کے ساتھی
خشک شاخوں پہ سر شام جو آ بیٹھتے ہیں
وہی دو چار پرندے ہیں شجر کے ساتھی
چاک دامن کا گلہ کرتے رہے ہم باقیؔ
اور محفل سے اٹھے جھولیاں بھر کے ساتھی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.