کبھی تو عشق میں ایسے مقام آئیں گے
کبھی تو عشق میں ایسے مقام آئیں گے
کہ ناخداؤں کے ہم پر سلام آئیں گے
یہی ہیں لوگ جو دامن بچائے پھرتے ہیں
یہی تھے لوگ جو کہتے تھے کام آئیں گے
سہے ہیں ظلم یہی سوچ کے سبھی ہم نے
بروز حشر یہ بخشش کے کام آئیں گے
تمام لوگ جو پیاسے رہے ہیں دنیا میں
سنا ہے ان کے ہی حصے میں جام آئیں گے
جو چل سکو تو چلو تم بھی حق کی راہوں پر
یہ طے ہے راہ میں خطرے تمام آئیں گے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.