آدم کی خطاؤں کی سزا کاٹ رہے ہیں
آدم کی خطاؤں کی سزا کاٹ رہے ہیں
سب اپنے نصیبوں کا لکھا کاٹ رہے ہیں
محشر میں ملے داد یہی سوچ کے ہم بھی
کس صبر سے دنیا کی سزا کاٹ رہے ہیں
کس حال کو پہنچے ہیں طبیبوں کے ہنر اب
خود اپنے ہی نسخے سے دوا کاٹ رہے ہیں
اک آپ نے ہنگامۂ محشر ہے اٹھایا
اک ہم ہیں جو چپ چاپ سزا کاٹ رہے ہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.