شدت احساس تنہائی میں ہم رہنے لگے
شدت احساس تنہائی میں ہم رہنے لگے
اک حویلی چھوڑ کر کھائی میں ہم رہنے لگے
چشم الفت خواب رعنائی میں ہم رہنے لگے
ہر گھڑی ذکر شناسائی میں ہم رہنے لگے
ان سے آنکھیں ملتے ہی مشہور ہر جانب ہوئے
جانے کیسی کیسی رسوائی میں ہم رہنے لگے
یار بیوی بچے رشتے بھائی بہنیں والدین
باری باری سب کی بینائی میں ہم رہنے لگے
درد دل درد جگر درد تمنا درد شوق
درد کی کس درجہ گہرائی میں ہم رہنے لگے
چشم محبوبہ میں اترے تو یہ اندازہ ہوا
بحر بے پایاں کی گہرائی میں ہم رہنے لگے
شاعری بھی ہے کہیں زخم تمنا کا علاج
اس لئے بھی خامہ فرسائی میں ہم رہنے لگے
آنکھوں میں دل میں جگر میں روح میں پہلے ہی تھے
یوں ہوا اب اس کی انگڑائی میں ہم رہنے لگے
ہجر محبوبہ میں امجدؔ جینا مشکل ہو گیا
کتنی کلفت کتنی کٹھنائی میں ہم رہنے لگے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.