Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

شدت احساس تنہائی میں ہم رہنے لگے

امجد رحمانی

شدت احساس تنہائی میں ہم رہنے لگے

امجد رحمانی

MORE BYامجد رحمانی

    شدت احساس تنہائی میں ہم رہنے لگے

    اک حویلی چھوڑ کر کھائی میں ہم رہنے لگے

    چشم الفت خواب رعنائی میں ہم رہنے لگے

    ہر گھڑی ذکر شناسائی میں ہم رہنے لگے

    ان سے آنکھیں ملتے ہی مشہور ہر جانب ہوئے

    جانے کیسی کیسی رسوائی میں ہم رہنے لگے

    یار بیوی بچے رشتے بھائی بہنیں والدین

    باری باری سب کی بینائی میں ہم رہنے لگے

    درد دل درد جگر درد تمنا درد شوق

    درد کی کس درجہ گہرائی میں ہم رہنے لگے

    چشم محبوبہ میں اترے تو یہ اندازہ ہوا

    بحر بے پایاں کی گہرائی میں ہم رہنے لگے

    شاعری بھی ہے کہیں زخم تمنا کا علاج

    اس لئے بھی خامہ فرسائی میں ہم رہنے لگے

    آنکھوں میں دل میں جگر میں روح میں پہلے ہی تھے

    یوں ہوا اب اس کی انگڑائی میں ہم رہنے لگے

    ہجر محبوبہ میں امجدؔ جینا مشکل ہو گیا

    کتنی کلفت کتنی کٹھنائی میں ہم رہنے لگے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے