یار کو اشک بار دیکھا ہے
یار کو اشک بار دیکھا ہے
راز دل آشکار دیکھا ہے
جس نے پایا ہے نقش پائے ناز
سر وہی سوئے دار دیکھا ہے
دیدۂ گریاں سینہ بریاں
حسن کا شاہکار دیکھا ہے
چشم ساقی میں ڈوب کر ہم نے
قلزم بے کنار دیکھا ہے
بے نیاز وفا کو دنیا نے
محو صد انتظار دیکھا ہے
دامن صبر اب کہاں واصفؔ
ہر رگ تار خار دیکھا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.