آپ چلئے تو سہی ہم بھی چلے آتے ہیں
آپ چلئے تو سہی ہم بھی چلے آتے ہیں
آپ ہر بار یہی کہہ کے چلے جاتے ہیں
کسی احباب سے امید کوئی کیا میں رکھوں
وہ کہاں میرے مسائل کو سمجھ پاتے ہیں
زندگی ہم ترے قیدی ہیں رہا ہم کو نہ کر
ہم جدائی کے تصور سے ہی گھبراتے ہیں
بات پیچیدہ کیے جاتی ہے الجھن اپنی
آپ جب دور بٹھا کر ہمیں سمجھاتے ہیں
وقت اچھا ہو تو پھولوں سے مہکتی ہے صبا
جو برا وقت ہو تو پھول بھی مرجھاتے ہیں
ہم نے مانا تری دنیا کے نظارے ہیں حسین
کچھ بھی ہو ہم ترے جھانسے میں نہیں آتے ہیں
دھوپ جو تیز ہو تو خود کو بچانے کے لئے
ہم عموماً ترے سائے سے لپٹ جاتے ہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.