مر مٹے کوئی حصول کار کی تدبیر میں
مر مٹے کوئی حصول کار کی تدبیر میں
کارگر تدبیر کیا ہو جب نہ ہو تقدیر میں
حسن بھی ہے دل فریبی بھی ہے زیبائی بھی ہے
ایک گویائی نہیں ہے یار کی تصویر میں
رات بھر وہ بھی رہے درد جگر سے بے قرار
ہو اثر اتنا تو میرے نالۂ شبگیر میں
قبر تنگ و تار میں جانے کی منعم فکر کر
کیا دھرا ہے اونچے اونچے قصر کی تعمیر میں
دے رہے ہیں آپ مجھ کو صدمۂ درد فراق
کس خطا کس جرم کس پاداش کس تقصیر میں
یہ مثل سچ ہے کہ ظالم پھولتا پھلتا نہیں
ہوتی ہے نشو و نما کب دانۂ زنجیر میں
دیکھنا اک مبتلائے غم کی حسرت دیکھنا
دل ہے کوئے یار میں اور پاؤں ہے زنجیر میں
یہ لگاوٹ یہ کشش یہ دل فریبی یہ ادا
آپ سے بڑھ کر ہے شوخی آپ کی تصویر میں
زندگی اب تک تو بسملؔ عیش و راحت میں کٹی
دیکھیے لکھا ہے کیا آگے مری تقدیر میں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.