ولی دکنی کو اکثر اردو شاعری کا باوا آدم کہا جاتا ہے، لیکن کوئی بھی عظیم شاعر خلا میں پیدا نہیں ہوتا۔ شمس الرحمن فاروقی اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ولی ازخود 'ولی دکنی' نہیں بن گئے تھے، بلکہ ان کے پیچھے ایک مضبوط ادبی اور لسانی روایت موجود تھی۔ ولی نے گجری اور دکنی دونوں ادبی تہذیبوں سے کسبِ فیض کیا، اور خاص طور پر حسن شوقی کو اپنا پیش رو تسلیم کیا۔
حسن شوقی کے کلام کی سب سے نمایاں خوبی ان کے پیکروں کی فراوانی اور ہر شے کو ایک حسی رنگ (Sensuousness) دینے کی ادا تھی۔ یہی صفت ولی کے کلام میں بدرجہ اتم موجود ہے۔ ولی نے اپنے پیش روؤں میں صرف حسن شوقی کا ذکر نہایت عقیدت سے کیا ہے:
برجا ہے اگر جگ میں ولی پھر کے دجے بار
رکھ شوق مرے شعر کا شوقی حسن آوے
ولی کی زبان کو سمجھنے کے لیے اس دور کے اورنگ آباد کے لسانی ماحول کو سمجھنا ضروری ہے۔ جب مغل شہنشاہ اورنگزیب عالمگیر نے دکن کا رخ کیا اور اورنگ آباد کو اپنا مستقر بنایا، تو اس کے ساتھ شمالی ہند کا ایک بہت بڑا لشکر بھی وہاں مقیم ہو گیا۔ ڈاکٹر عبدالستار صدیقی اور مولوی عبدالحق کی تحقیق کے مطابق، وہ لشکر اپنے ساتھ دہلی کی زبان (اردوئے معلیٰ) بھی دکن لایا۔
اس کے نتیجے میں اورنگ آباد اور اس کے اطراف میں ایک نئی زبان پروان چڑھی جس میں دکنی اور شمالی ہند کی زبان کا حسین امتزاج تھا۔ یہ زبان گولکنڈہ اور بیجاپور کی 'سخت' دکنی (جس میں سنسکرت اور تیلگو/کنڑ کے ثقیل الفاظ شامل تھے، جیسے نصرتی کا کلام) سے قدرے مختلف اور نرم تھی۔ ولی کی زبان، جسے 'اورنگ آبادی اردو' کہا جا سکتا ہے، اسی لسانی ملاپ کا نتیجہ تھی۔
یہی وجہ ہے کہ جب ولی کا کلام دہلی پہنچا تو وہاں کے لوگوں کو یہ زبان بالکل اجنبی محسوس نہیں ہوئی، کیونکہ یہ بڑی حد تک اسی زبان سے مشابہ تھی جو اس وقت دہلی میں بولی جا رہی تھی۔ ولی کا سب سے بڑا کارنامہ یہ تھا کہ انہوں نے اس زبان میں وہ شعریات متعارف کروائی جس میں سنسکرت، سبکِ ہندی (فارسی)، اور دکنی کے دھارے آکر ملتے تھے۔ انہوں نے ثابت کر دیا کہ ریختہ/ہندی میں بھی اتنی وسعت اور گہرائی ہے کہ وہ فارسی شاعری کے شانہ بشانہ چل سکتی ہے۔
