شاعری محض قافیہ پیمائی یا الفاظ کے ہیر پھیر کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک ایسا الہامی اور وجدانی عمل ہے جس کی بنیاد 'تخیل' یا قوتِ متخیلہ پر استوار ہے۔ مولانا الطاف حسین حالی کے تنقیدی شعور کے مطابق، شاعری میں کمال حاصل کرنے کے لیے سب سے مقدم اور ضروری شرط تخیل (Imagination) ہے۔ یہ وہ خداداد ملکہ ہے جو شاعر اپنے ساتھ بطنِ مادر سے لے کر آتا ہے، اور یہ کسی مدرسے یا محض اکتساب سے حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ اگر کسی شخص میں یہ ملکہ موجود ہے، تو وہ دیگر خامیوں پر پردہ ڈال سکتا ہے، لیکن اگر تخیل کی فطری چنگاری موجود نہیں، تو تمام تر لسانی مہارتوں کے باوجود وہ شخص شاعر کہلانے کا مستحق نہیں۔
تخیل کی سب سے بڑی کرامت یہ ہے کہ یہ شاعر کو زمان و مکان کی قید سے آزاد کر دیتا ہے۔ یہ وہ جادوئی طاقت ہے جو ماضی کے دھندلے نقوش اور مستقبل کے پردے میں چھپے واقعات کو کھینچ کر زمانہ حال کے کینوس پر اس طرح پیش کرتی ہے کہ قاری یا سامع خود کو ان واقعات کا چشم دید گواہ محسوس کرنے لگتا ہے۔ آدم کا جنت سے نکلنا ہو یا حشر و نشر کا ہولناک منظر، تخیل کی بدولت شاعر ان غیبی اور ماورائی حقائق کو اس قدر زندہ اور متحرک بنا دیتا ہے کہ وہ ایک واقعی بیان معلوم ہونے لگتے ہیں۔
تخیل کی پرواز منطق اور عقل کے مروجہ اصولوں کی پابند نہیں ہوتی۔ یہ جن، پری، عنقا اور آبِ حیات جیسی فرضی اور معدوم اشیاء کو ایسے معقول اوصاف کے ساتھ متصف کر دیتا ہے کہ ان کی تصویر آنکھوں کے سامنے گھومنے لگتی ہے۔ جب دل اپنی عام اور سطحی حالت سے بلند ہوتا ہے، تو تخیل کے تراشے ہوئے غیر منطقی نتائج بھی بالکل درست اور فطری معلوم ہوتے ہیں۔ اس کی بہترین مثال فیضی کا یہ شعر ہے:
سخت است سیاہی شب من
لخت زشب است کو کب من
اگرچہ منطق اس بات کو تسلیم نہیں کرتی کہ کسی ایک شخص کی رات دوسروں سے زیادہ تاریک ہو، یا کوئی ستارہ اس قدر سیاہ ہو کہ اسے کالی رات کا ٹکڑا کہا جا سکے، کیونکہ ستارے کا وجود ہی روشنی سے عبارت ہے۔ مگر تخیل کی دنیا میں، جہاں شاعر اپنے قاری کو لے جانا چاہتا ہے، یہ تمام ناممکن باتیں نہ صرف ممکن بلکہ ایک ٹھوس حقیقت کے طور پر موجود نظر آتی ہیں۔ یہی وہ ملکہ ہے جس کے ذریعے شاعر کا ایک لفظ جادو کی فوج کھڑی کر دیتا ہے اور طویل داستانیں ایک مصرعے میں سمٹ آتی ہیں۔
