غالب نے خود کو اور اپنے محبوب کو 'مشکل پسند' کہا ہے۔ شمس الرحمن فاروقی کے نزدیک غالب کی اس مشکل پسندی کا سب سے بڑا تنقیدی معیار ان کا 'استعارہ' (Metaphor) ہے۔ غالب کے یہاں استعارہ محض کلام کو سجانے کا زیور نہیں، بلکہ ہیئت (Form) اور موضوع (Content) کے مکمل امتزاج کا نام ہے۔
غالب کا یہ مشہور شعر دیکھیے:
شمار سجہ مرغوب بت مشکل پسند آیا
تماشائے بہ یک کف بردن صد دل پسند آیا
اس شعر میں محبوب کو ایک ہاتھ سے سینکڑوں دل اڑا لے جانے کی ادا پسند ہے۔ لیکن اس کا اظہار وہ مجرد الفاظ سے نہیں کرتا، بلکہ ہاتھ میں عقیقِ سرخ کی تسبیح لے لیتا ہے۔ یہاں تسبیح کا ہاتھ میں لینا ایک استعارہ ہے۔ تسبیح کے سرخ دانے عاشقوں کے دلوں کا مقام اختیار کر لیتے ہیں۔ جس طرح تسبیح کے دانے محبوب کی انگلیوں کے لمس سے گرمی اور حرکت پاتے ہیں، اسی طرح عاشقوں کے دل محبت کی نگاہ سے دھڑکتے ہیں۔ تسبیح کا دانہ حرکت کے باوجود اپنی جگہ رہتا ہے، بالکل ویسے ہی جیسے عاشق کا دل تمام تر وحشتوں کے باوجود محبوب کے در پر ہی رہتا ہے۔ اس طرح استعارہ (تسبیح) اور موضوع (دل بری) ایک ہی ہو جاتے ہیں۔
روایتی شاعری میں استعارے کو لباس کی طرح برتا جاتا ہے جسے شعر سے الگ بھی کر لیا جائے تو بنیادی مفہوم باقی رہتا ہے۔ لیکن غالب کے یہاں استعارہ الگ نہیں ہو سکتا۔ اگر آپ استعارے کو الگ کرنے کی کوشش کریں گے، تو شعر کا خون ہو جائے گا۔
ایک اور مثال دیکھیے:
جذبۂ بے اختیار شوق دیکھا چاہیے
سینۂ شمشیر سے باہر ہے دم شمشیر کا
یہاں تلوار کا میان سے باہر آنا، عاشق کے قتل ہونے کے شوق، محبوب کی بے رخی، اور تلوار کی اپنی بے تابی، یہ سب حقائق ایک ہی استعارے میں ضم ہو گئے ہیں۔ 'جذبۂ بے اختیار شوق' کس کا ہے؟ عاشق کا؟ محبوب کا؟ یا خود تلوار کا؟ استعارے نے حقیقت کو اتنا بڑا کر دیا ہے کہ اس میں کئی ایسی جہتیں نظر آنے لگی ہیں جو بظاہر وہاں نہیں تھیں۔
فاروقی صاحب کے مطابق، غالب عام الفاظ کے ان مفاہیم سے دلچسپی ظاہر کرتے ہیں جو فی الواقعہ ان الفاظ کے ماورا ہوتے ہیں۔ استعارے کو عقل سے مدغم کرنے کا یہ تیور ہی غالب کی مشکل گوئی کی اساس ہے۔ وہ ان شعراء میں سے ہیں جو تاریک گھر کی نیم روشنی میں رہتے ہیں، لیکن ان کا وجود اس نیم روشنی کو دھوپ میں تبدیل کر دیتا ہے۔
