Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

بدن کو جنبش ابرو سے بے جاں کر گیا کوئی

قیصر عمران سیالوی

بدن کو جنبش ابرو سے بے جاں کر گیا کوئی

قیصر عمران سیالوی

MORE BYقیصر عمران سیالوی

    بدن کو جنبش ابرو سے بے جاں کر گیا کوئی

    مجھے تو دو گھڑی میں شخص حیراں کر گیا کوئی

    الاپا اک بھکاری نے گلی میں ہیر کا دوہا

    مرے کوچے میں آکر پھر پریشاں کر گیا کوئی

    نجانے کتنی مشکل سے کیا تھا میں نے آمادہ

    مگر پرکھوں کو پھر مجھ سے ہی نالاں کر گیا کوئی

    خدا جانے چھپائے پھر رہے تھے چار سالوں سے

    کہانی کے سبھی کردار عریاں کر گیا کوئی

    ذرا سا مسکرا کر پاس سے گزرا ہے کیا قیصرؔ

    مرے ہر درد کا لمحے میں درماں کر گیا کوئی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے