بدن کو جنبش ابرو سے بے جاں کر گیا کوئی
بدن کو جنبش ابرو سے بے جاں کر گیا کوئی
مجھے تو دو گھڑی میں شخص حیراں کر گیا کوئی
الاپا اک بھکاری نے گلی میں ہیر کا دوہا
مرے کوچے میں آکر پھر پریشاں کر گیا کوئی
نجانے کتنی مشکل سے کیا تھا میں نے آمادہ
مگر پرکھوں کو پھر مجھ سے ہی نالاں کر گیا کوئی
خدا جانے چھپائے پھر رہے تھے چار سالوں سے
کہانی کے سبھی کردار عریاں کر گیا کوئی
ذرا سا مسکرا کر پاس سے گزرا ہے کیا قیصرؔ
مرے ہر درد کا لمحے میں درماں کر گیا کوئی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.