اس گھر میں رہنے والوں کی بے گھر ہے زندگی
اس گھر میں رہنے والوں کی بے گھر ہے زندگی
زندہ ہیں اور موت کے منہ پر ہے زندگی
تیرے بغیر زندگی کیسے ہو زندگی
خواہش ہے خودکشی کی میسر ہے زندگی
میری ہتھیلیوں میں ہیں تیرے گلاب گال
تیری قسم خدا کے برابر ہے زندگی
آنکھوں کے سامنے ہیں پری وش کی انگلیاں
سر پر کھڑی ہے موت لبوں پر ہے زندگی
سود و زیاں سے دور محبت کے آس پاس
ہنستی ہوئی اداسی کا منظر ہے زندگی
کاغذ قلم کے بیچ کی وسعت کے درمیان
تیرے حسین چہرے کی محور ہے زندگی
وقت اجل پکاروں گا کاشفؔ علی علی
کربل کا ہوں فقیر سو ازبر ہے زندگی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.