سانس کا اکھڑ جانا غم کی ابتدا ہوگی
سانس کا اکھڑ جانا غم کی ابتدا ہوگی
ان کی دید ہی میرے درد کی دوا ہوگی
جانتے ہو ماضی ہم کیوں نہیں پرکھتے ہیں
جانتے ہیں انساں ہیں کوئی تو خطا ہوگی
زندگی کا ہر رستہ موت سے ہی ملتا ہے
موت آنے سے ہی تو زندگی عطا ہوگی
ہم گناہوں کا یارب اعتراف کرتے ہیں
حشر میں تو رحمت کی ہم پہ بھی گھٹا ہوگی
جب منافقت دنیا میں عروج پر ہے تو
حق پرست لوگوں کی پھر کہاں جگہ ہوگی
مستقل کوئی بھی تو ساتھ دے نہیں سکتا
روح بھی بدن سے تو ایک دن جدا ہوگی
سرپھروں سے رونق ہے ان کے بعد کیا ہوگا
کوچۂ محبت میں خاک جا بجا ہوگی
ہر کوئی یہاں خود کو پارسا سمجھتا ہے
ایسے میں بھلا ارقمؔ تیری کیا جگہ ہوگی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.