موت جس وقت دھیان میں آئی
موت جس وقت دھیان میں آئی
زندگی درمیان میں آئی
یوں تمنا ہے خوش مرے دل میں
جیسے اپنے مکان میں آئی
سنگ رہ بن گیا خیال سفر
بات کیسی گمان میں آئی
کام آیا نہ مدتوں کا سلوک
دل میں رنجش اک آن میں آئی
زندگی کوڑیوں کے مول بکی
جب بھی اونچی دکان میں آئی
در و دیوار تلملانے لگے
دھوپ ایسی مکان میں آئی
وہ نظر آپ ہی پیام بنی
آپ ہی درمیان میں آئی
دل کی ہر بات بن گئی آنسو
کیا روانی بیان میں آئی
تیرے جاتے ہی کیا ہوا دل کو
پھر نہ آواز کان میں آئی
جان لے کر بھی کوئی خوش نہ ہوا
کیا کمی امتحان میں آئی
بات کچھ اور اس کا مطلب کچھ
دل کی لغزش زبان میں آئی
دل کی دیوار گر گئی شاید
اپنی آواز کان میں آئی
کسی قصے میں بھی وہ بات نہیں
جو تمھارے بیان میں آئی
بیٹھے بیٹھے تڑپ اٹھے باقیؔ
کون سی بات دھیان میں آئی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.