تم جو ناخوش نہ ہوں تو یہ پوچھوں ذرا محترم مشفقو مہرباں دوستو
تم جو ناخوش نہ ہوں تو یہ پوچھوں ذرا محترم مشفقو مہرباں دوستو
جب تمہاری ضرورت رہی ہے مجھے تم تھے ایسے میں آخر کہاں دوستو
ہم کہاں تھے کہاں سے کہاں آ گئے جا چکے سب کہاں سے کہاں دوستو
منزلوں سے پرے منزلیں تھیں بہت کارواں تھے پس کارواں دوستو
چاند سورج سے محروم شام و سحر وقت ہے ظلمت شب کے زیر اثر
کوئی شئے کوئی منظر نمایاں نہیں ہر طرف ہے دھواں ہی دھواں دوستو
دل کی مشعل جلائے ہوئے رات بھر سوئے منزل رہے گامزن ہم سفر
اور نزدیک منزل قریب سحر لٹ گیا شوق کا کارواں دوستو
رات تو رات ہے بلکہ روز سیہ اپنا سایہ بھی رہتا ہے ہم سے جدا
صبح عشرت جو تھے دل کش و دل کشاں شام غم ہیں وہ دامن کشاں دوستو
کچھ تامل ابھی کچھ تحمل ابھی کچھ تفکر ابھی کچھ تدبر ابھی
رات کٹ جائے گی دن نکل آئے گا صبح نے لی ہیں انگڑائیاں دوستو
زندگی نور بھی زندگی نار بھی زندگی پھول بھی زندگی خار بھی
ہر نفس ہے نئی آزمائش یہاں ہر قدم ہے نیا امتحاں دوستو
جلوۂ یار سے آنکھ پر نور ہے عشق دل دار سے قلب معمور ہے
زندگی ہے حسیں زندگی ہے جواں اور ہے شوق روح رواں دوستو
ان کی آواز ہے یا ہے لے ساز کی یہ ہے مینا کی قلقل کھنک جام کی
جیسے کانوں میں رس گھولتا ہے کوئی جیسے بجتی ہیں شہنائیاں دوستو
دست تاباںؔ میں وہ مرمری ہاتھ ہے عشق کی زندگی حسن کے ساتھ ہے
یوں ابھرتی ہیں آئینۂ حال میں یاد ماضی کی پرچھائیاں دوستو
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.