Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

تم سے بچھڑے تو سوچا تھا بس ایک جاں سے الگ ہو گئے

ندیم شاد

تم سے بچھڑے تو سوچا تھا بس ایک جاں سے الگ ہو گئے

ندیم شاد

MORE BYندیم شاد

    تم سے بچھڑے تو سوچا تھا بس ایک جاں سے الگ ہو گئے

    اب لگا ایک جاں سے نہیں دو جہاں سے الگ ہو گئے

    اے وطن رہ کے پردیس میں ایسے گھٹ گھٹ کے روتے تھے ہم

    جیسے بچے کسی بھیڑ میں اپنی ماں سے الگ ہو گئے

    داستاں لکھنے والے نے تو سب ہمارے ہی خوں سے لکھا

    اور ستم دیکھیے پھر ہمیں داستاں سے الگ ہو گئے

    یار کھلنے پہ پہرے لگے اور مہکنے پہ پابندیاں

    اب یہ سمجھے کہ ہم کس لئے گلستاں سے الگ ہو گئے

    کارواں میں جو شامل رہے ان کو بس ایک منزل ملی

    ان کی وسعت نہ پوچھو کہ جو کارواں سے الگ ہو گئے

    کیا کہا آپ کو چھوڑ کر ہم جئیں گے اجی چھوڑیئے

    کیا سنا ہے ستارے کبھی آسماں سے الگ ہو گئے

    تم خدا تو نہیں ہو ندیمؔ ایک دن تم بھی مر جاؤ گے

    پھر تکبر بھلا کس لئے تم کہاں سے الگ ہو گئے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے