تم سے بچھڑے تو سوچا تھا بس ایک جاں سے الگ ہو گئے
تم سے بچھڑے تو سوچا تھا بس ایک جاں سے الگ ہو گئے
اب لگا ایک جاں سے نہیں دو جہاں سے الگ ہو گئے
اے وطن رہ کے پردیس میں ایسے گھٹ گھٹ کے روتے تھے ہم
جیسے بچے کسی بھیڑ میں اپنی ماں سے الگ ہو گئے
داستاں لکھنے والے نے تو سب ہمارے ہی خوں سے لکھا
اور ستم دیکھیے پھر ہمیں داستاں سے الگ ہو گئے
یار کھلنے پہ پہرے لگے اور مہکنے پہ پابندیاں
اب یہ سمجھے کہ ہم کس لئے گلستاں سے الگ ہو گئے
کارواں میں جو شامل رہے ان کو بس ایک منزل ملی
ان کی وسعت نہ پوچھو کہ جو کارواں سے الگ ہو گئے
کیا کہا آپ کو چھوڑ کر ہم جئیں گے اجی چھوڑیئے
کیا سنا ہے ستارے کبھی آسماں سے الگ ہو گئے
تم خدا تو نہیں ہو ندیمؔ ایک دن تم بھی مر جاؤ گے
پھر تکبر بھلا کس لئے تم کہاں سے الگ ہو گئے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.