اردو زبان کا خمیر ہمیشہ سے ہی مذہبی رواداری، سیکولرازم اور گنگا جمنی تہذیب سے اٹھا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سناتن دھرم کا بیشتر تبلیغی ادب اور مذہبی صحائف اردو زبان میں کثرت سے منتقل کیے گئے۔ رامائن، جو کہ ہندوستان کا ایک عظیم رزمیہ اور مہابیانیہ ہے، اردو زبان میں اتنی ہی عقیدت اور محبت کے ساتھ اپنایا گیا جتنا کہ سنسکرت یا ہندی میں۔ اردو میں رامائن کے تراجم اور منظوم تشریحات اس بات کا ثبوت ہیں کہ کوئی بھی عظیم مذہب یا فلسفہ زبان کی سرحدوں کا محتاج نہیں ہوتا۔
تاریخی اعتبار سے دیکھا جائے تو رامائن کو دوسری زبانوں میں منتقل کرنے کا سلسلہ مغلیہ دور سے ہی شروع ہو گیا تھا۔ شہنشاہ اکبرِ اعظم کے حکم پر عبدالقادر بدایونی نے 1589 میں اس کا پہلا فارسی نثر میں ترجمہ کیا۔ بعد ازاں، جہانگیر کے عہد میں ملا سعداللہ مسیح کیرانوی نے اسے فارسی میں منظوم کیا۔ یہ روایت جب اردو میں منتقل ہوئی تو اس نے ایک نیا اور وسیع تر کینوس اختیار کر لیا۔ تحقیق کے مطابق اردو زبان میں اب تک تقریباً ڈیڑھ سو سے زائد رامائن شائع ہو چکی ہیں۔ اردو کی سب سے پہلی رامائن 1766 میں گنگا بشن نے تحریر کی تھی، جس کا نادر مخطوطہ آج بھی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی مولانا آزاد لائبریری میں محفوظ ہے۔
اردو میں رام کتھا کو منظوم کرنے والوں میں جہاں ہندو شعراء مثلاً پنڈت برج نرائن چکبست، دوارکا پرساد افق، اور پنڈت رادھے شیام کے نام نمایاں ہیں، وہیں مسلم شعراء نے بھی شانہ بشانہ اس کارِ خیر میں حصہ لیا۔ مہدی نظمی، طالب الہ آبادی، نفیس خلیلی، اور محمد امتیاز الدین خاں جیسے مسلم ادبا نے رام کی عظمت، علویت اور الوہیت کا بھرپور اعتراف کیا ہے۔ منشی نول کشور پریس لکھنؤ نے اس مشترکہ ورثے کو عوام تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کیا اور منشی شنکر دیال فرحت کی رامائن کے سترہ ایڈیشن شائع کیے۔
اردو شعراء نے رامائن کے کرداروں کی نفسیات اور ان کے جذباتی پہلوؤں کو نہایت خوبصورتی سے اردو کے شعری سانچے میں ڈھالا ہے۔ مثال کے طور پر، رانی کیکئی کا راجہ دشرتھ سے اپنے بیٹے بھرت کے لیے راج گدی اور رام کے لیے چودہ برس کا بنواس مانگنے کا منظر نہایت ڈرامائی اور جذباتی ہے۔ مہدی نظمی نے اس واقعے کی منظر کشی اور مکالمہ نگاری کو اردو مثنوی کے روایتی انداز میں نہایت فنکارانہ مہارت سے پیش کیا ہے۔ وہ کیکئی کے مطالبے اور دشرتھ کی بے بسی کو یوں بیان کرتے ہیں:
اک روز ہنس کے کیکئی بولی کہ اے حضور
ہر شخص یاد رکھتا ہے اپنا وچن ضرور
تھا آپ کا یہ قول کہ اے شاہِ نیک خو
پوری کریں گے آپ مری ایک آرزو
دشرتھ یہ بولے اپنا سخن یاد ہے مجھے
جو تم کو دے چکا وہ وچن یاد ہے مجھے
چرنوں کو چھو کے کیکئی بولی بہ احترام
میں چاہتی ہوں آپ سے اے شاہِ نیک نام
جنگل میں گھر سے رام کو بے آس بھیج دیں
چودہ برس کے واسطے بن واس بھیج دیں
یہ اشعار اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ اردو زبان نے رامائن کے کرداروں کو محض مذہبی عقیدت کے طور پر نہیں، بلکہ اعلیٰ ادبی اور انسانی اقدار کے حامل کرداروں کے طور پر پیش کیا ہے۔ اردو میں رام کتھا کی یہ روایت دراصل ہندوستان کی اس مشترکہ تہذیب کا آئینہ ہے جہاں ادب اور فن مذہب کی تفریق سے بالاتر ہو کر انسانیت اور محبت کا درس دیتے ہیں۔
