کسی بھی کلاسیکی شاعر کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس کے کلام کے کتنے قلمی نسخے (مخطوطات) دستبردِ زمانہ سے محفوظ رہے۔ شمس الرحمن فاروقی کے مطابق، ۱۹۶۶ء میں لگائے گئے ایک تخمینے کے مطابق دیوانِ ولی کے ۶۵ نسخے ایسے موجود تھے جن پر تاریخِ کتابت درج تھی، اور ۵۳ نسخے بغیر تاریخ کے تھے۔ اس کے علاوہ ۳۳ ایسی بیاضیں تھیں جن میں ولی کے کلام کا معتدبہ انتخاب درج تھا۔
ماہرِ ولیات نورالحسن ہاشمی کے مطابق، مخطوطات کی یہ تعداد اگرچہ حیرت خیز ہے، لیکن یہ فہرست مکمل نہیں ہے۔ ایشیاٹک سوسائٹی کلکتہ، خدا بخش لائبریری پٹنہ، رضا لائبریری رام پور، اور یوپی اسٹیٹ آرکائیوز الہ آباد سمیت کئی ذاتی کتب خانوں میں ولی کے بے شمار نسخے آج بھی موجود ہیں۔ کسی شاعر کی موت کے تقریباً تین سو برس بعد، اور بے شمار سماجی تغیرات اور سیاسی آشوب کے باوجود، اس کے کلام کے اتنے نسخوں کا محفوظ رہنا ایک غیر معمولی واقعہ ہے۔
یہ بات اس لیے بھی حیرت انگیز ہے کہ ولی کوئی صوفی بزرگ یا پیرِ طریقت نہیں تھے کہ ان کے مریدین اور معتقدین عقیدت کے طور پر ان کے کلام کو جمع کرتے اور اسے تبرک سمجھ کر محفوظ رکھتے۔ ولی کی اس بے پناہ مقبولیت کی واحد وجہ ان کے کلام کی خالص شعری خوبی اور جمالیاتی کشش تھی۔
ولی کے کلام کا مطالعہ بتاتا ہے کہ وہ دینی سے زیادہ دنیاوی شخص تھے۔ ان کے یہاں مرد (اور شاید عورت) معشوقوں کا ذکر کثرت سے اور بڑے ذوق و شوق سے ملتا ہے۔ وہ اپنے زمانے کے سچے نمائندہ تھے، ایک ایسا زمانہ جب عشق و عاشقی کی باتیں کھل کر کی جاتی تھیں اور معاشرے پر انیسویں صدی کے وسط کے وکٹوریائی 'اخلاقی' اصولوں کا دباؤ نہیں تھا۔
ولی نے اردو شاعری کو ایک نئی جہت دی۔ انہوں نے ثابت کیا کہ:
راہ مضمون تازہ بند نہیں
تا قیامت کھلا ہے باب سخن
ان کی شاعری نے نہ صرف دکن بلکہ پورے برصغیر میں اردو غزل کی بنیادوں کو استوار کیا۔ ان کے مخطوطات کی یہ کثیر تعداد اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ ولی کی آواز نے اپنے عہد کے ہر ذی حس انسان کے دل کے تار چھیڑے تھے، اور ان کی شاعری کسی دربار یا خانقاہ کی محتاج نہیں تھی۔
