حسرت موہانی کا شمار اردو کے ان عظیم غزل گویوں میں ہوتا ہے جنہوں نے بیسویں صدی کے آغاز میں غزل کی مردہ رگوں میں تہذیبِ عاشقی کا نیا خون دوڑایا۔ ان کی عشقیہ شاعری میں جو ارضی و جسمانی کیفیت، شائستگی اور تغزل کا رچاؤ ملتا ہے، اس نے انہیں اپنے عہد کا مقبول ترین شاعر بنا دیا۔ لیکن اس بے پناہ مقبولیت کا ایک تاریک پہلو یہ بھی ہے کہ ہماری ادبی تنقید نے حسرت کی شاعری کی ایک انتہائی اہم جہت یعنی ان کی 'سیاسی شاعری' کو یکسر نظر انداز کر دیا۔
نقادوں کا یہ رویہ حیران کن ہے کہ وہ حسرت کی مجاہدانہ زندگی، ان کی قید و بند کی صعوبتوں اور سامراج دشمنی کا ذکر تو بڑے فخر سے کرتے ہیں، لیکن جب بات ان کی شاعری کی آتی ہے تو وہ اس عملی زندگی اور شعری تخلیقات میں کوئی مطابقت تلاش کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ نیاز فتح پوری، مجنوں گورکھپوری، احتشام حسین اور خلیل الرحمن اعظمی جیسے جید نقادوں نے بھی حسرت کی سیاسی غزلوں کو 'پھس پھسی'، 'بے جان' یا محض 'نظمیں' قرار دے کر غزل کے زمرے سے خارج کر دیا۔ خلیل الرحمن اعظمی کا تو یہاں تک کہنا تھا کہ چونکہ حسرت کوئی مدبر یا فلسفی نہیں تھے، اس لیے ان کی سیاسی شاعری رسمی ہے۔
اس بے اعتنائی کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ ایک بڑی وجہ تو حسرت کی عشقیہ شاعری کی وہ دلفریب اور پرکشش ارضی کیفیت تھی جس کے سحر میں گرفتار نقادوں کو دوسری طرف دیکھنے کی فرصت ہی نہ ملی۔ اس زمانے کا ادبی مذاق عشقیہ شاعری میں متصوفانہ رنگ تو قبول کر لیتا تھا، لیکن سیاسی مضامین کی آمیزش کو روحِ تغزل کے منافی سمجھا جاتا تھا۔
مزید برآں، خود حسرت موہانی اور ان کے کلام کے مرتبین نے بھی اس غلط فہمی کو ہوا دی۔ حسرت نے اپنی باغیانہ شاعری کو کم اہمیت دی اور ناشرین نے یہ وضاحتیں شائع کیں کہ زندانِ فرنگ میں لکھے جانے کے باوجود اس کلام میں حالات کی تلخی کا اثر نہیں بلکہ یہ خالص عشقیہ کلام ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ یہ بات مسلمات میں شامل ہو گئی کہ حسرت کی مجاہدانہ زندگی اور ان کی شاعری دو الگ الگ چیزیں ہیں۔
گوپی چند نارنگ کے مطابق، یہ اردو تنقید کا ایک بڑا المیہ ہے کہ اس نے وضعِ زندگی اور روشِ شعر میں اس عدم مطابقت کو گوارا کیا۔ حسرت نے حالات سے پس کر اور دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر جو سامراج دشمن اشعار کہے، انہیں محض اس لیے رد کر دینا کہ وہ روایتی عشقیہ رنگ سے ہٹے ہوئے تھے، ایک ایسا تنقیدی تعصب ہے جس کی ازسرِ نو اصلاح ہونی چاہیے۔
