اردو غزل کی سب سے بڑی اور روشن خصوصیت اس کی وسیع القلبی اور رواداری ہے۔ غزل کے ماورائی اور وجودی تصورات نے اس میں تنگ نظری، تعصب اور فرقہ واریت کے لیے کوئی گنجائش نہیں چھوڑی۔ ہندوستان کی وحدت آموز فضا میں صدیوں سے رواداری کے جو رجحانات موجود تھے، اردو غزل نے انہیں نہ صرف اپنایا بلکہ انہیں ایک طاقتور شعری آواز عطا کی۔
اسلامی وجودی فلسفے (تصوف) میں ہمیشہ مذہب کے ظواہر (رسوم و رواج) کی بہ نسبت اس کی باطنی روح پر زیادہ زور دیا گیا ہے۔ چونکہ تمام الہامی اور سچے مذاہب کی باطنی روح یکساں ہے، یعنی خالق سے محبت اور مخلوق سے ہمدردی۔ اس لیے تصوف کے زیرِ اثر اردو غزل میں باہمی اشتراک اور رواداری کی قوتوں کو بے پناہ فروغ حاصل ہوا۔ غزل کے شاعروں نے ان تمام مذہبی ظاہر داریوں اور کھوکھلی رسوم کی ہمیشہ ڈٹ کر مذمت کی جو دلوں میں دوری پیدا کرتی ہیں اور انسان کو انسان سے جدا کرتی ہیں۔
اردو غزل اس وحدت پر زور دیتی ہے جو تمام مذہبوں کی اصل بنیاد ہے۔ غزل کے شاعر کے نزدیک مسلمان کا خدا اور ہندو کا برہمہ الگ نہیں ہیں۔ مسجد ہو یا مندر، کعبہ ہو یا کلیسا، ہر جگہ ایک ہی وحدت کارفرما ہے۔ یہ رجحان اردو شاعری میں محض رسمی یا روایتی نہیں ہے، بلکہ اس کی پشت پر صدیوں کی مشترک تہذیبی قوتوں اور صوفیانہ افکار کا ہاتھ رہا ہے۔ میر تقی میرؔ نے مذہبی مقامات کی ظاہری تقدیس کے بجائے انسانی دل کو خدا کا اصل گھر قرار دیتے ہوئے کیا خوب کہا ہے:
دیر و حرم کو دیکھا اللہ رے فضولی
یہ کیا ضرور تھا جب دل سا مکاں بنایا
غزل کا شاعر شیخ اور برہمن، دونوں کی ظاہر پرستی پر طنز کرتا ہے اور انہیں اس حقیقت کی طرف بلاتا ہے جو ان تمام تفریقوں سے بالاتر ہے۔ ذوقؔ کا یہ شعر اسی آفاقی انسانیت اور مساوات کا علمبردار ہے، جہاں وہ تمام انسانوں کو ایک ہی حق کے بندے قرار دیتے ہیں اور مذہبی جھگڑوں کو شر کا نام دیتے ہیں:
کیسا مومن کیسا کافر کون ہے صوفی کیسا رند
بشر ہیں سارے بندے حق کے سارے جھگڑے شر کے ہیں
مرزا غالبؔ کے ہاں یہ ترکِ رسوم اور رواداری ایک باقاعدہ مسلک کی حیثیت اختیار کر لیتی ہے۔ وہ فخریہ انداز میں خود کو موحد (ایک خدا کو ماننے والا) کہتے ہیں، لیکن ان کی توحید کا تقاضا یہ ہے کہ تمام ظاہری رسموں اور ملتوں کی تفریق کو مٹا دیا جائے، کیونکہ جب یہ تفریقیں مٹتی ہیں، تب ہی سچا ایمان وجود میں آتا ہے:
ہم موحد ہیں ہمارا کیش ہے ترکِ رسوم
ملتیں جب مٹ گئیں اجزائے ایماں ہو گئیں
غرض اردو غزل کا یہ روادارانہ اور انسان دوست رویہ ہندوستانی فکر و فلسفے اور صوفیانہ تعلیمات سے پوری طرح ہم آہنگ ہے۔ اردو غزل نے برصغیر میں محبت، امن اور بھائی چارے کی جو شمع روشن کی، وہ آج بھی نفرتوں کے اندھیرے میں روشنی کا مینار ہے۔
