زبانوں کے ارتقا اور ان کے رسم الخط کے حوالے سے یہ بحث اکثر سر اٹھاتی ہے کہ چونکہ اردو اور ہندی ایک ہی لسانی خاندان سے تعلق رکھتی ہیں، اس لیے ان کا رسم الخط بھی ایک ہونا چاہیے۔ یہ دلیل بظاہر دلکش معلوم ہوتی ہے، لیکن لسانیات اور تاریخ کے عمیق مطالعے سے اس کی خامیاں واضح ہو جاتی ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اردو اور ہندی دونوں شورسینی پراکرت کی جانشین ہیں اور دہلی کے گرد و نواح کی کھڑی بولی پر ان کی بنیاد قائم ہے۔ تاہم، بنیاد کے ایک ہونے کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ ان کی ارتقائی منزلیں اور تہذیبی تقاضے بھی ہمیشہ یکساں رہیں۔
تاریخی عمل کے دوران، یہ دونوں زبانیں مختلف سماجی، ثقافتی اور تہذیبی دھاروں سے گزرتے ہوئے ایک دوسرے سے الگ ہو گئیں۔ آج کے دور میں اردو اور ہندی کو دو ملتی جلتی لیکن مکمل طور پر آزاد اور مستقل زبانیں تسلیم کرنا لسانی حقیقت پسندی کا تقاضا ہے۔ اگر محض بنیاد کے ایک ہونے کو رسم الخط کے ایک ہونے کی دلیل مان لیا جائے، تو پھر ہندوستان کی کئی دیگر زبانوں کے رسم الخط پر بھی سوالیہ نشان لگ جائے گا۔
مثال کے طور پر اڑیا، بنگالی اور آسامی زبانوں کو لیجیے۔ یہ تینوں زبانیں ماگدھی پراکرت کی جانشین ہیں، لیکن اس کے باوجود ان کا رسم الخط ایک دوسرے سے مختلف ہے۔ اگر اس اصول کو مزید پیچھے لے جائیں تو سنسکرت تمام ہند آریائی زبانوں کی ماں ہے۔ بنگالی، اڑیا، آسامی، اودھی، مگھی، میتھلی، بھوج پوری، برج، کھڑی، ہریانی، گجراتی، راجستھانی اور پنجابی وغیرہ سبھی زبانوں کا شجرہ نسب سنسکرت تک پہنچتا ہے۔ لیکن کیا ان سب کا رسم الخط ایک ہے؟ ہرگز نہیں۔
اردو اور ہندی کا معاملہ بھی بالکل یہی ہے۔ دونوں آریائی زبانیں ہیں، لیکن اپنے ارتقائی سفر میں یہ دونوں اتنی آگے بڑھ چکی ہیں اور انہوں نے اپنا اپنا ایک مخصوص تہذیبی اور لسانی مزاج تشکیل دے دیا ہے کہ اب ان کے لیے ایک ہی رسم الخط (جیسے دیوناگری) تجویز کرنا دونوں کے حق میں مضر ہوگا۔ زبانیں اپنے بولنے والوں کی تاریخ اور ثقافت کا عکس ہوتی ہیں، اور ان کا رسم الخط اس عکس کو محفوظ رکھنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔
