اب ایسے ترانے سے مجھے کام نہیں ہے
اب ایسے ترانے سے مجھے کام نہیں ہے
جو جذبۂ بیدار کا پیغام نہیں ہے
اٹھو کہ ہے سرگرم عمل سارا زمانہ
اے خواب زدو سونے کا ہنگام نہیں ہے
کس وقت تری یاد سے مدہوش نہیں میں
کس وقت مرے لب پہ ترا نام نہیں ہے
گرداب میں موجوں کے جو کھاتے تھے تھپیڑے
ان کے لئے ساحل پہ تو آرام نہیں ہے
اس طرح سبک ساروں کا بدلا ہے زمانہ
اب سیج پہ پھولوں کی بھی آرام نہیں ہے
ہندیؔ تھی کبھی مجھ سے خرابات کی رونق
اب میرے لئے دُرد تہ جام نہیں ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.