اگر یہ سوال اٹھایا جائے کہ کیا ادب تاریخ سے بے تعلق ہے؟ تو یقیناً ہر باشعور شخص کا جواب نفی میں ہوگا۔ ادب کبھی بھی تاریخ کے دائرے سے باہر نہیں رہ سکتا۔ لیکن اس کے باوجود ادبی حلقوں میں یہ بحث صدیوں سے جاری ہے کہ ادب کو ایک 'خود مختار' اور 'خود کفیل' اکائی سمجھا جائے یا اسے تاریخ کا محض ایک عکس قرار دیا جائے۔ ان دونوں نظریات میں ایک شدید تضاد پایا جاتا ہے، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ادب اور تاریخ کا رشتہ اتنا سیدھا اور سادہ نہیں جتنا بظاہر محسوس ہوتا ہے۔
تاریخی اعتبار سے ادب اور تاریخ کے رشتے کے بارے میں دو متضاد تنقیدی رویے چلے آ رہے ہیں۔ پہلا رویہ یہ مانتا ہے کہ ادب تاریخ کا زائیدہ ہے اور اس کا مطالعہ سماجی اور تاریخی تناظر کے بغیر ناممکن ہے۔ یہ نظریہ افلاطون کے زمانے سے 'نظریہ نقل' (Mimesis) کے نام سے رائج ہے، جس نے بعد ازاں ہیگل اور مارکس کے زیرِ اثر مارکسی اور ترقی پسند تحریکوں کی شکل اختیار کی۔ دوسرا رویہ ارسطو کے زمانے سے چلا آ رہا ہے جو ادبی متن کو ایک نامیاتی کل، آزاد اور خود مختار مانتا ہے۔ اس نظریے کے حامیوں کا ماننا ہے کہ ادب کا مطالعہ صرف اس کے داخلی اور ادبی اصولوں کی بنیاد پر ہونا چاہیے، نہ کہ خارجی یا تاریخی اصولوں پر۔ اسی نظریے نے آگے چل کر ہیئت پسندی (Formalism) اور امریکی نیو کریٹسزم کو جنم دیا۔
اردو ادب کے تناظر میں اس تفریق کو ترقی پسند تحریک اور جدیدیت کی کشمکش کے طور پر بخوبی دیکھا جا سکتا ہے۔ ترقی پسندوں نے ادب میں تاریخ اور سماج کی اہمیت پر زور تو دیا، لیکن ان کا تاریخ کا تصور انتہائی سطحی اور اکہرا تھا۔ انہوں نے محض تاریخی واقعات کو گنوا دینے یا کتابوں میں 'تاریخی پس منظر' کا ایک باب شامل کر دینے کو تاریخیت کا حق ادا کرنا سمجھ لیا۔ اس ناقص تصور کی وجہ سے اردو ادب میں تاریخیت کی حیثیت محض آرائشی بن کر رہ گئی۔
دوسری جانب، اردو میں جدیدیت کا رجحان امریکی نیو کریٹسزم کی تقلید میں پروان چڑھا، جس نے ترقی پسندی کے ردعمل میں تاریخ، سماج اور ثقافت کو ادب سے یکسر خارج کر دیا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ادب اپنے ثقافتی اور سماجی ڈسکورس سے کٹ کر زندگی کی حرارت سے محروم ہو گیا اور محض ابہام، رعایتِ لفظی اور عروض و قافیے کی بحثوں تک محدود ہو کر رہ گیا۔ 'خالص ادب' کے نام پر تاریخیت کا یہ اخراج ایک ایسی انتہا پسندی تھی جس نے اردو تنقید اور تخلیق کو بے پناہ نقصان پہنچایا۔ یہ ایک تاریخی ستم ظریفی ہے کہ جب اردو میں جدیدیت اور ہیئت پسندی عروج پر تھیں، عین اسی وقت مغرب میں ان نظریات کا زوال شروع ہو چکا تھا، لیکن اردو کے نظریہ سازوں نے اس حقیقت کو دانستہ یا نادانستہ طور پر نظر انداز کیا۔
