کبیر کی شاعری کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ وہ اپنا سارا استعاراتی اور تشبیہی مسالا روزمرہ کی زندگی اور عام پیشوں سے لیتے ہیں۔ کمہار، دھوبی، لوہار اور خاص طور پر بنکر (جلاہے) کی زندگی ان کی شعری منطق کے بنیادی سرچشمے ہیں۔ کبیر چونکہ خود کپڑا بننے کے پیشے سے وابستہ تھے، اس لیے انہوں نے کاتنے، بننے، تانے بانے اور کرگھے کی اصطلاحات کو روحانی اور وجودی حقائق بیان کرنے کے لیے نہایت چابکدستی سے استعمال کیا۔
عالمی ادب میں ذاتِ انسانی، خودی، اور حیاتِ انسانی کی بے ثباتی پر بہت کچھ لکھا گیا ہے، لیکن کبیر نے اپنے مشہور پد 'جھینی جھینی بینی چدریا' میں جو اچھوتا پیرایہ اختیار کیا ہے، اس کی مثال ملنا مشکل ہے۔ اس پد میں درد مندی، دل سوزی، محویت اور گداز کا ایسا ترفع ہے جو سیدھا قاری کی روح میں اتر جاتا ہے۔ کبیر انسانی جسم اور روح کے رشتے کو ایک باریک بُنی ہوئی چادر سے تشبیہ دیتے ہیں:
جھینی جھینی بینی چدریا
کاہے کے تانا کاہے کے بھرنی، کون تار سے بینی چدریا
جھنگلا پنگلا تانا بھرنی، سکھمن تار سے بینی چدریا
آٹھ کنول دل چرخہ ڈولے، پانچ تتّ گن تینی چدریا
سائیں کو سیت ماس دس لاگے، ٹھوک ٹھوک کے بینی چدریا
اس پد میں 'چادر' سے مراد انسانی جسم یا زندگی ہے۔ کبیر سوال کرتے ہیں کہ اس چادر کا تانا بانا کیا ہے؟ پھر خود ہی جواب دیتے ہیں کہ یہ 'اڑا' اور 'پنگلا' (یوگ کی اصطلاح میں جسم کی رگیں) کا تانا بانا ہے اور 'سوشومنا' ناڑی کے تار سے بُنی گئی ہے۔ اسے بنانے والے (سائیں/خدا) کو ماں کے پیٹ میں دس مہینے لگے اور اس نے بڑے جتن سے، خوب ٹھونک ٹھاک کر اس چادر کو تیار کیا۔
اس کے بعد کبیر انسانی المیے کی طرف اشارہ کرتے ہیں:
سو چادر سرنرمُنی اوڑھے، اوڑھ کے میلی کینی چدریا
داس کبیر جتن سے اوڑھی، جیں کی تیوں دھر دینی چدریا
یعنی اس چادر (زندگی/جسم) کو دیوتاؤں، منیوں اور عام انسانوں سب نے پہنا، لیکن دنیاوی خواہشات اور گناہوں میں پڑ کر اسے میلا کر دیا۔ مگر داس کبیر کا کمال یہ ہے کہ اس نے اس چادر کو اتنے جتن اور احتیاط سے اوڑھا کہ جب دنیا سے جانے کا وقت آیا، تو اسے بالکل ویسا ہی بے داغ اور پاکیزہ واپس لوٹا دیا جیسی وہ اسے ملی تھی۔
چند مصرعوں کا یہ متن تحیر کا ایک طلسم کدہ ہے۔ کبیر نے ایک عام سے پیشے کی تکنیکی اصطلاحات کو استعمال کرتے ہوئے زندگی کی پاکیزگی اور موت کی حقیقت کا ایسا نقش کھینچا ہے جو صدیوں گزرنے کے بعد بھی اپنی پوری معنویت کے ساتھ زندہ ہے۔
