اس بات کو سمجھنے کے لیے ایک سادہ سی مثال لیجیے۔ جب ہم کہتے ہیں 'زید شیر ہے'، تو یہ ایک استعارہ ہے۔ اس استعارے کی بنیاد اس مشاہدے پر ہے کہ شیر بہادر، طاقتور، اور پھرتیلا ہوتا ہے، اور زید میں بھی یہ خوبیاں پائی جاتی ہیں۔ ہم نے شیر اور زید کا مشاہدہ کیا اور ان کی مشترک خصوصیات کی بنا پر ایک کو دوسرے کا استعارہ بنا دیا۔ استعارہ مشاہدے کی مختلف اکائیوں کو ایک واحد پیکر میں متحد کر دیتا ہے۔
اس کے برعکس، 'علامت' براہِ راست مشاہدے کی نفی کرتی ہے۔ علامت اس علم کا اظہار ہے جو مشاہدے کی ظاہری سطح سے کہیں گہرا ہوتا ہے۔ فاروقی صاحب اس کی وضاحت کے لیے ولیم بلیک کی مشہور نظم 'The Tiger' کی مثال دیتے ہیں، جس میں بلیک چیتے کو 'Burning Bright' (روشن اور دہکتا ہوا) کہتا ہے۔ اگر ہم خالص مشاہدے کی بات کریں تو چیتے کی دھاریاں اسے جنگل کے سائے میں چھپنے میں مدد دیتی ہیں، وہ کوئی دہکتی ہوئی یا روشن چیز نہیں ہوتیں۔ نہ ہی چیتا حقیقت میں آگ میں جل رہا ہوتا ہے۔
لیکن بلیک نے یہاں چیتے کو ایک علامت کے طور پر استعمال کیا ہے۔ 'Burning Bright' کے الفاظ بیک وقت روشنی، آگ، تمازت، آنکھوں کی چمک، قوت و جلال اور برق رفتاری کے اس 'علم' کو ظاہر کرتے ہیں جو شاعر کے ذہن میں چیتے کے حوالے سے موجود ہے۔ جس لمحے آپ اس علامت کو محض ظاہری مشاہدے کی کسوٹی پر پرکھنے کی کوشش کریں گے، اس کی ساری علامتی معنویت ختم ہو جائے گی اور وہ ایک فرومایہ استعارہ بن کر رہ جائے گا۔
علامت کی ایک اور بڑی پہچان اس کی 'نیم روشنی' (Half-light) اور کثیر المعنویت ہے۔ استعارے کے معنی عموماً متعین کیے جا سکتے ہیں، لیکن علامت کے قطعی حدود اور معنی کی سرحدیں آسانی سے واضح نہیں کی جا سکتیں۔ علامت بیک وقت عمومی بھی ہوتی ہے اور مخصوص بھی۔ یہ ایک ایسا تمثال ہے جس کا ترجمہ اسی زبان کے دوسرے الفاظ میں بغیر معنی کو مجروح کیے ممکن نہیں ہوتا۔ علامت اپنے اندر ایک ناقابلِ ترجمہ کثیر المعنویت رکھتی ہے جو اسے استعارے سے ممتاز اور برتر بناتی ہے۔
