اردو تنقید میں ایک طویل عرصے تک یہ رجحان غالب رہا ہے کہ میر تقی میر کی شاعری کو ان کی ذاتی زندگی کے مصائب، ناکام عشق اور اٹھارویں صدی کے دلی کے زوال کا نوحہ سمجھا جاتا رہا ہے۔ شمس الرحمن فاروقی اس نام نہاد سوانحاتی، سماجیاتی اور تاریخی اسکول کی تنقید کو یکسر مسترد کرتے ہیں۔ ان کا استدلال ہے کہ جو لوگ غزل کو خود نوشت کے طور پر پڑھتے ہیں، وہ دراصل کلاسیکی غزل کی شعریات سے ناواقف ہیں۔
فاروقی صاحب کے مطابق، میر کے کلیات میں نظر آنے والا عاشق محمد تقی میر (شخص) نہیں ہے، اور نہ ہی معشوق کوئی حقیقی تاریخی کردار ہے۔ یہ کردار فکشن کے کرداروں کی طرح اپنی ایک الگ انفرادیت اور پیچیدگی رکھتے ہیں۔ نقادوں نے میر پر 'یاس پرستی'، 'سراسر محزونی' اور 'دل شکستگی' کا جو حکم لگایا ہے، وہ میر کے ساتھ صریح ناانصافی ہے۔ جس شاعر کے یہاں زندگی کے ہر رنگ، مزاح، طنز، خودداری، اور تلخی کی اتنی گوناگونی موجود ہو، اسے محض ایک روتا بسورتا مسکین عاشق قرار دینا اس کی شعری عظمت کو محدود کرنے کے مترادف ہے۔
بعض نقادوں کا یہ مفروضہ بھی ہے کہ میر کی حرماں نصیبی اس معاشرے کی پیداوار تھی جہاں عورتیں پردہ نشین تھیں اور عشق کرنا رسوائی تھا۔ فاروقی صاحب اس اختراع کو رد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ میر کے اشعار میں نظر آنے والا معشوق کوئی چھوئی موئی قسم کی، کوٹھری میں چھپ کر رونے والی لڑکی نہیں ہے۔ بلکہ وہ ایک بااختیار، پرقوت اور بعض اوقات جارحانہ شخصیت کا مالک ہے، جو اپنے التفات و کرم کو عطا کرنے یا نہ کرنے پر پوری طرح قادر ہے۔
آنکھیں دوڑیں خلق جا اودھر گری
اٹھ گیا پردہ کہاں اودھم ہوا
یہ شعر اس بات کا ثبوت ہے کہ معشوق کا کردار سماجی پابندیوں کا صیدِ زبوں نہیں ہے۔ فاروقی صاحب واضح کرتے ہیں کہ سماجی حالات کچھ بھی رہے ہوں، اشعار کا وجود اپنی جگہ ایک حقیقت ہے۔ میر کا کمال یہ نہیں کہ انہوں نے غزل کے پردے میں اپنی داستانِ عشق نظم کر دی، بلکہ ان کا کمال یہ ہے کہ انہوں نے ایک ایسی دنیا تخلیق کی جس میں موت بھی ہے اور موت سے بدتر زندگی بھی، خودداری بھی ہے اور خود فریبی بھی۔ میر کے تجربے اور مشاہدے کی دنیا کو محض 'آپ بیتی' یا 'دل کا دکھڑا' قرار دینا میر کی عظیم الشان کائناتی وسعت سے انکار کرنا ہے۔
