زبانیں صرف درباروں اور لشکر گاہوں میں پروان نہیں چڑھتیں، بلکہ ان کی اصل روح خانقاہوں، مندروں اور عوام کے دلوں میں دھڑکتی ہے۔ شمالی ہندوستان میں جب فارسی سرکاری زبان کے طور پر تہذیب و معاشرت پر چھائی ہوئی تھی، اس وقت ایک نئی عوامی زبان خاموشی سے بازاروں اور خانقاہوں میں اپنی جڑیں مضبوط کر رہی تھی۔ اسے کبھی 'ہندوی'، کبھی 'ریختہ' اور کبھی 'اردو' یا 'ہندی' کہا گیا۔
اس مشترکہ زبان کے پہلے مستند اور واضح نمونے ہمیں حضرت امیر خسرو کی شاعری میں ملتے ہیں۔ امیر خسرو وہ عظیم شخصیت ہیں جنہیں اردو اور ہندی دونوں زبانوں کے بولنے والے اپنا پہلا باقاعدہ شاعر تسلیم کرتے ہیں۔ ان کا کلام اس بات کا ثبوت ہے کہ اس دور میں زبان کا روپ کیا تھا۔ ان کے یہ اشعار آج بھی دونوں زبانوں کے ادب کا ماتھے کا جھومر ہیں:
گوری سووے سیج پرمکھ پر ڈارے کیس
چل خسرو گھر آپنے رین بھئی چہوں دیس
بالا تھا جب سب کو بھایا، بڑا ہوا کچھ کام نہ آیا
خسرو کہہ دیا اس کا ناؤں، ارتھ کرو نہیں چھاڑو گاؤں
یہ وہی زبان تھی جسے بھگتوں، صوفیوں، سنتوں اور جوگیوں نے اپنے کلام اور نغموں کے لیے منتخب کیا، کیونکہ یہی وہ واحد پل تھا جس کے ذریعے وہ براہِ راست عوام کے دلوں تک پہنچ سکتے تھے۔ صوفیائے کرام کے ملفوظات ہوں یا کرشن بھگتوں کے گیت، سب میں اسی زبان کی چاشنی موجود ہے۔ نرگن وادی بھگتوں کے کلام میں کھڑی یعنی پرانی ہندی کے نقوش نمایاں ہیں۔ بھگت کبیر داس کا کلام اس کی زندہ مثال ہے:
ماٹی کہے کمہار سے تو کا روندھے موئے
اک دن ایسا ہوئے گا میں روندھوں گی توئے
جاکو راکھے سائیاں مار سکے نہ کوئے
بال نہ بانکا کر سکے جو جگ بیری ہوئے
اسی طرح بابا گرو نانک کی شاعری میں بھی اسی زبان کا روپ جھلکتا ہے:
میٹھے کو کڑوا کہیں، کڑوے کو میٹھا
رانے کو نندا کرہیں ایسا کل مانہیں ڈیٹھا
ان صوفیا اور سنتوں نے اس زبان کو مذہب اور عقیدے کی قید سے آزاد کر کے خالص انسانی جذبات کا ترجمان بنا دیا۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی جب ہم ان کا کلام پڑھتے ہیں، تو ہمیں اردو اور ہندی کی تفریق بے معنی محسوس ہوتی ہے اور صرف ایک مشترکہ تہذیبی آواز سنائی دیتی ہے۔
