اگر میر اور غالب کی شعریات اور نظریۂ شعر میں اتنی گہری مماثلت ہے، تو پھر ان کے کلام کا مجموعی تاثر ایک دوسرے سے اتنا مختلف کیوں محسوس ہوتا ہے؟ شمس الرحمن فاروقی اس سوال کا نہایت بصیرت افروز جواب دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک، اس اختلاف کی بنیادی وجہ ان دونوں شعراء کے موضوعات کا انتخاب اور زندگی کے واقعات کو برتنے کا رویہ ہے۔
میر تقی میر کی دنیا اپنی وسعت، واقعات کی کثرت اور عام زندگی کے معاملات کے باعث کسی عظیم ناول نگار کی دنیا معلوم ہوتی ہے۔ انتظار حسین نے بجا طور پر میر میں ایک ناول نگار کی جھلک دیکھی تھی۔ میر کا کلیات چارلس ڈکنز کے ناولوں کی یاد دلاتا ہے؛ وہی افراتفری، انوکھے اور معمولی واقعات کا امتزاج، بے ساختہ مزاح، اور زندگی کی بھیڑ بھاڑ۔ میر کے یہاں عارفانہ وجدان سے لے کر رندانہ برہنگی، ذلت، ناکامی، پھکڑپن، اور عشق کی خود سپردگی تک، انسانی جذبے کی ہر شکل موجود ہے۔ میر روزمرہ کے واقعات کو واقعات کی سطح پر برتتے ہیں اور ان میں گہری جذباتی معنویت داخل کر دیتے ہیں۔
اس کے برعکس، غالب کی دنیا اگرچہ میر ہی کی طرح بھرپور ہے، لیکن اس میں واقعات اور کرداروں کی وہ کثرت نہیں جو میر کا خاصہ ہے۔ آل احمد سرور کے بقول، غالب ہمارے سامنے وہ محفل سجاتے ہیں جس میں زمین سے آسمان تک ہر چیز آ جاتی ہے، لیکن رہتی وہ محفل ہی ہے۔ غالب کا دیوان ایک پرتکلف اور طلسمی دیوان خانہ ہے، جہاں ہر چیز نظر تو آتی ہے، لیکن اکثر اس طرح کہ ایک ہی چیز کئی کئی چیزیں دکھائی دیتی ہے۔
اس فرق کو سمجھنے کے لیے دونوں شعراء کے ان اشعار کا موازنہ کیجیے جن میں شاعر کی موت کا ذکر ہے:
میرؔ:
جہاں میں میر سے کا ہے کو ہوتے ہیں پیدا
سنا یہ واقعہ جن نے اسے تاسف تھا
غالبؔ:
اسد اللہ خاں تمام ہوا
اے دریغا وہ رند شاہد باز
میر کے شعر میں ایک کائناتی المناکی اور کرداروں کی کثرت ہے۔ ایک متکلم ہے، ایک میر خود ہیں، اور ایک وہ پورا گروہ ہے جس نے یہ واقعہ سنا اور افسوس کیا۔ میر نے ایک عام واقعے کو ابہام اور کنایے کے ذریعے شدید جذباتی معنویت بخش دی ہے۔ دوسری طرف، غالب کا شعر بھی کمال کا ہے، لیکن اس کی دنیا محدود ہے۔ اس میں غالب کی شخصیت 'رند شاہد باز' کے طور پر ابھرتی ہے، جس میں ایک گہری اندرونی کمی کو چھپانے کی کوشش اور المیاتی کیفیت ہے۔ غالب کا لہجہ روزمرہ سے دور اور انتہائی انفرادی ہے۔
مختصر یہ کہ میر کا کلام وہ پورا شہر ہے جس میں زندگی کے تمام رنگ بکھرے ہیں، جبکہ غالب کا کلام اس شہر کے اندر موجود ایک ایسا طلسمی دیوان خانہ ہے جس کے آئینوں میں کائنات کے گہرے اور تجریدی عکس جھلملاتے ہیں۔
