ترے خیال نے بخشی تھی جو خوشی نہ رہی
ترے خیال نے بخشی تھی جو خوشی نہ رہی
تمھارے غم میں جو شامل تھی دلکشی نہ رہی
بڑے قریب سے دیکھی تھی ہم نے صبح امید
قریب تر ہوئے جب ہم وہ روشنی نہ رہی
تم اپنے عہد جوانی کو رو رہے ہو مگر
ہم اپنے حال پہ روتے ہیں زندگی نہ رہی
بڑے وثوق سے ہم میکدے میں آئے تھے
نگاہ ساقی جو اٹھی تو تشنگی نہ رہی
ہزار کہئے کہ یہ آگ دل لگی میں لگی
جب آگ لگ گئی دل میں تو دل لگی نہ رہی
وطن وطن تھا مرے ساتھ جو ہوا سو ہوا
دیار غیر میں کیا آبرو رہی نہ رہی
وہ آ رہے ہیں وہ آتے ہیں آنے والے ہیں
یہ اور بات کہ آنکھوں میں جان ہی نہ رہی
طلب طلب ہے مگر دور بد نصیب سا ہے
کہ خواجگی تو رہی بندہ پروری نہ رہی
مری نوشت میں تھی خاک دو جہاں ورنہ
تمہارے فیض کرم میں تو کچھ کمی نہ رہی
محیط تھی مری ہستی پہ وہ نگاہ کرم
بنی تھی بات مگر تا بہ کے بنی نہ رہی
وہ ایک بات کہ جس پر نثار تھا واصفؔ
وہ بات جان تمنا کو یاد ہی نہ رہی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.