تم کو شہرت ہو مبارک ہمیں رسوا نہ کرو
تم کو شہرت ہو مبارک ہمیں رسوا نہ کرو
خود بھی بک جاؤ گے اک روز یہ سودا نہ کرو
شوق سے پردہ کرو پردہ ہے واجب لیکن
میری قسمت کے اندھیروں میں اضافہ نہ کرو
ہم پہ آشفتہ نگاہی کی یہ تہمت کیا خوب
تم بھی دزدیدہ نظر سے ہمیں دیکھا نہ کرو
چوم لینے دو رخ یار کو جی بھر کے ہمیں
زندگی پیار ہے تم پیار سے روکا نہ کرو
کوششیں کرنے سے حالات بدل جاتے ہیں
خود بگاڑی ہوئی تقدیر کا شکوا نہ کرو
بندگی ہی سے تو ہے بندہ نوازی ان کی
بعض نادان یہ کہتے ہیں کہ سجدہ نہ کرو
عرش پر خاک نشینوں کا بسیرا توبہ
جو نہ پوری ہو کبھی ایسی تمنا نہ کرو
حسن کو تم نے خدا سمجھا ہے لیکن اے منیرؔ
خود بنائے ہوئے معبود کی پوجا نہ کرو
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.