توڑنا ٹوٹے ہوئے دل کا برا ہوتا ہے
توڑنا ٹوٹے ہوئے دل کا برا ہوتا ہے
کوئی بھی جس کا نہیں اس کا خدا ہوتا ہے
التجاؤں سے مسرت ملے منظور نہیں
کس کا مانگی ہوئی دولت سے بھلا ہوتا ہے
شکر ہے اے مرے ہم درد عنایت کا تری
پرسش حال سے اب رنج سوا ہوتا ہے
آدمی جنگ کرے لاکھ مشیت سے مگر
وہ نہیں ملتا جو قسمت سے سوا ہوتا ہے
ہر قدم زیست کی آلام زدہ راہوں میں
دل لرزتا ہے کہ اب دیکھیے کیا ہوتا ہے
لوگ ناحق کسی مجبور کو کہتے ہیں برا
آدمی اچھے ہیں سب وقت برا ہوتا ہے
کیوں منیرؔ اپنی تباہی کا یہ شکوہ کیسا
جتنا تقدیر میں لکھا ہے ادا ہوتا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.